منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آئین کہتا ہے ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ، سپریم کورٹ ،عوام کہتے ہیں آئین کا تحفظ کرو ، جسٹس جواد خواجہ

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز نے کہاہے کہ آئین کا حلف لے رکھا ہے ، آئین کہتا ہے ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، 18 ویں اور 21 ویں آئینی ترامیم کا تصور کسی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا معیار ہے یا نہیں ؟ واضح ہونا چاہیے پیر کو یہاں سپریم کورٹ میں 18 ویں اور 21 ویں ترامیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں فل بنچ نے کی دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انتظامیہ کا افسر جب اپنی حدود سے نکل جاتا ہے تو ہم اس کا سختی سے محاسبہ کرتے ہیں،اسی طرح مقننہ کوئی قانون بنائے اور اسے اس کا اختیار نہ ہو تو کیا ججز اپنی حدود پا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک اکیڈمک تھیوری کو جواز بنا کر اختیار سماعت کر سکتے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ18 ویں اور 21 ویں آئینی ترامیم کا تصور کسی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا معیار ہے یا نہیں ؟ واضح ہونا چاہیے۔ جسٹس عظمت سعید نے حامد خان سے سوال کیا کہ اگر ترمیم کی آڑ میں آئین کو بگاڑا جائے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اختیار دینے والے پاکستان کے عوام ہیں اورعوام کہتے ہیں آئین کا تحفظ کرو۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ اگر پارلیمنٹ آئین میں ترمیم چاہے کہ ملک سیکولر ہو تو کیا ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے جاننا ضروری نہ ہو گا؟ تاریخی پس منظر میں بھی چیزوں کو دیکھنا ہو گا، علیحدگی میں نہیں دیکھ سکتے۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ قانون وفاقی پارلیمانی نظام کیخلاف ترمیم کی اجازت نہیں دیتا تاہم پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیتا ہے،کیا یہ دونوں شقیں متصادم نہیں؟ جس پر لاہور ہائیکورٹ بار کے وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کا آئین میں ترمیم کا اختیار لا محدود نہیں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم میں ہم نے معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجا تھا کہ آپ اس کو دیکھ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…