اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

آئین کہتا ہے ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ، سپریم کورٹ ،عوام کہتے ہیں آئین کا تحفظ کرو ، جسٹس جواد خواجہ

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز نے کہاہے کہ آئین کا حلف لے رکھا ہے ، آئین کہتا ہے ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، 18 ویں اور 21 ویں آئینی ترامیم کا تصور کسی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا معیار ہے یا نہیں ؟ واضح ہونا چاہیے پیر کو یہاں سپریم کورٹ میں 18 ویں اور 21 ویں ترامیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں فل بنچ نے کی دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انتظامیہ کا افسر جب اپنی حدود سے نکل جاتا ہے تو ہم اس کا سختی سے محاسبہ کرتے ہیں،اسی طرح مقننہ کوئی قانون بنائے اور اسے اس کا اختیار نہ ہو تو کیا ججز اپنی حدود پا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک اکیڈمک تھیوری کو جواز بنا کر اختیار سماعت کر سکتے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ18 ویں اور 21 ویں آئینی ترامیم کا تصور کسی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا معیار ہے یا نہیں ؟ واضح ہونا چاہیے۔ جسٹس عظمت سعید نے حامد خان سے سوال کیا کہ اگر ترمیم کی آڑ میں آئین کو بگاڑا جائے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اختیار دینے والے پاکستان کے عوام ہیں اورعوام کہتے ہیں آئین کا تحفظ کرو۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ اگر پارلیمنٹ آئین میں ترمیم چاہے کہ ملک سیکولر ہو تو کیا ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے جاننا ضروری نہ ہو گا؟ تاریخی پس منظر میں بھی چیزوں کو دیکھنا ہو گا، علیحدگی میں نہیں دیکھ سکتے۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ قانون وفاقی پارلیمانی نظام کیخلاف ترمیم کی اجازت نہیں دیتا تاہم پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیتا ہے،کیا یہ دونوں شقیں متصادم نہیں؟ جس پر لاہور ہائیکورٹ بار کے وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کا آئین میں ترمیم کا اختیار لا محدود نہیں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم میں ہم نے معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجا تھا کہ آپ اس کو دیکھ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…