جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سیاسی زبان۔۔۔ گفتنی نہ گفتنی‎

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

سیاسی زبان مولوی‘لوہار‘ علی بابا چالیس چور‘ لٹیرا‘ ڈاکو ‘اوئے ‘ شوباز شریف‘ ایفی ڈرین عباسی‘ مولانا ڈیزل ‘ طالبان خان ‘ کوکین خان‘ بے شرم‘ گھٹیا‘ نکما‘ نکھٹو اور بزدل جیسے غیرمہذبالفاظ کی محتاج ہو چکی ہے‘‘
انسان کی شخصیت اس کی زبان کے نیچے ہوتی ہے‘ یہ جملہ اتنی بڑی حقیقت ہے کہ اگرہم کسی انسان کو پرکھنا یا جانچنا چاہیں تو اس کی گفتگو ‘ اس کے طرز تکلم سے اس کی شخصیت کا انداز لگا سکتے ہیں۔ سرورکائنات ﷺ نے ایک موقع پر اپنے صحابہ کرامؓ سے ارشاد فرمایا تھا‘تم اگرمجھے دو چیزوں کی ضمانت دو تو میں تمہیں جنت کی سند عطا کر دوں گا‘ صحابہ کرامؓ نے بے تابی سے عرض کی‘ یارسول اللہ ﷺ وہ دو چیزیں کیا ہیں؟ سرور انبیاءؐ نے ارشاد فرمایا ‘ وہ دو چیزیں زبان اور شرمگاہ ہیں۔ اسی طرح یہ بھی معروف ہے کہ تلوار کا زخم بھر سکتا ہے مگر زبان کا نہیں۔ گفتگو اور مکالمے سے ہی انسان کی چھپی حقیقت عیاں ہو تی ہے شائد یہی وجہ ہے اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کو تنبیہ کی کہ وہ کم گوئی اور خاموشی سے کام لیں۔

ہمارے معاشرے میں گالیاں دینامعیوب سمجھا جاتا تھا‘سب سے بڑی گالی ’’بھینس چور‘ گدھا‘مینڈک کی ٹر ٹر‘‘ یا سنپولیا ہوا کرتی تھی جس پر بہت ڈانٹ سننے کوملتی تھی مگر اب تو جدید ترین گالیاں تخلیق ہو چکی ہیں۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ان گالیوں کے کچھ فوائد بھی ہیں‘یہ آدمی کو ری چارج بھی کرتی ہیں۔ مثلا! مالک نے نوکر کو گالی دے کرڈانٹا ’’ حرام خور! ذرا تیزی دکھا ابھی بہت کام باقی ہے‘ ‘تو نوکر کو غصہ آگیا‘ دل ہی دل میں مالک کو گالیاں دیتا ہوا تیزی سے ہاتھ چلانے لگا‘ مالک کے حسب منشا وقت پر کام نمٹ گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہوٹلوں‘ ڈھابوں اور ورکشاپس پر کام کرنے والے کم سن بچوں کو مالکان گالیوں سے نوازتے رہتے ہیں۔ جس دن مالک نوکر کو گالیوں سے نہیں نوازتا وہ جان لیتا ہے کہ آج مالک بیمار ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جو نوکر مالک کی گالیاں خاموشی سے سن لے ‘ بھلے ہی ٹھیک سے کام نہ کرے مگر اچھا نوکر سمجھا جاتا ہے۔ گالی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کمزور کا ہتھیار ہے‘ اپنے سے طاقتور مدمقابل پر جب اس کا بس نہیں چلتا تو دل ہی دل میں اسے گالیاں دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔ ایسا کرنے سے انسان کا ذہنی تناؤ کم ہو جاتا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب شدید غصہ آ جائے تو دیواروں سے باتیں کر لی جائیں‘ گھر سے باہر نکل کر کسی کھلی جگہ چلے جانا چاہئے اور وہاں دل کھول کر بھڑاس نکال لینی چاہئے یا پھر اپنا غصہ کم کرنے کیلئے ریت کے تھیلے پر زور زور سے مکے مارنے چاہئیں۔بعض اوقات گالی ڈھال کا کام بھی کرتی ہے‘ مثلاً آپ کا پڑوسی آپ سے جھگڑنے آیا کہ آپ کے فرزند ارجمند نے اس کے بیٹے کو پیٹ دیا‘ اس کی شکایت سنتے ہی آپ نے اپنے فرزند کو ڈانٹا اور چار پانچ اعلیٰ وارفع گالیاں اسے دے ڈالیں‘ پڑوسی کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا اور معاملہ رفع دفع ۔اسی طرح آپ نے قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں یہ تو سن رکھا ہوگا لیکن اس قانون کی زبان کتنی لمبی ہوتی ہے اس سے متعلق نہیں سنا ہوگا۔ شریف سے شریف اور عزت دار شخص بھی تھانہ پہنچ جائے تو اس کا سواگت گالی سے ہوتا ہے ۔
گالیوں کا سب سے بڑا ذخیرہ آج کا سوشل میڈیا ہے ‘ آپ کسی بھی سائٹ پر چلیں جائیں‘ آپ سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے میں اپنے جذبات کا اظہار کر دیں جواباً آپ کو پانچ سو قسم کی گالیاں سننے کو ملیں گی‘کوئی چھوٹی موٹی تحریر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیں اور پھر جی بھر کر گالیاں سنیں۔
پارلیمانی زبان کا مفروضہ پرانا ہوچلا کہ اب جو زبان پارلیمان میں بولی جاتی ہے اس سے بھی کان سرخ ہو کر رہ جاتے ہیں اور ایوان سے باہر سیاستدان جو زبان استعمال کرتے ہیں اس پر اچھا خاصا بے شرم آدمی بھی شرمندہ ہو جاتا ہے لیکن آج کل بے شرم اور شرمناک جیسی گالیاں بھی گالی تصور نہیں کی جاتیں۔ ایوان نمائندگان کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنے مخالفین کے مرحومین کو بھی نہیں بخشتے اور پریس کانفرنس میں ماؤں ‘ بیٹیوں کے کٹے چھٹے کھول کر رکھ دیتے ہیں۔پارلیمانی زبان کرپٹ‘ بدعنوان‘ چور اور ڈاکو جیسی گالیوں سے آگے بڑھ چکی‘وہ پارلیمانی زبان جس پر سیاست کا بھرم تھا اب تیزی سے گالم گلوچ کے زیرسایہ فروغ پا رہی ہے۔مولوی صاحب‘لوہار‘ علی بابا چالیس چور‘ لٹیرا‘ ڈاکو سے شروع ہونے والی یہ زبان اب اوئے نوازشریفا‘ شوباز شریف‘ ایفی ڈرین عباسی‘ مولانا ڈیزل ‘ طالبان خان ‘ کوکین خان‘ بے شرم‘ گھٹیا‘ نکما‘ نکھٹو اور بزدل جیسے غیرمہذبانہ الفاظ کی محتاج ہو چکی ہے‘ہزاروں کے سیاسی اجتماعات ہوں یا پھر ایوان بالا یا ایوان زیریں پارلیمنٹیرنز یہ الفاظ ادا کرتے‘ ذرا تامل سے کام نہیں لیتے‘ اب تو اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر ’’شیرو‘‘ کو چومنے کے قصے زبان زد عام ہیں اور ان گالیوں اور قصوں کو سن کر سامعین قہقہے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ حیرت ہے جوں جوں سیاست مضبوط ہو رہی ہے‘

مزید پڑھیے:روزانہ دودرجن ’ریڈ بل‘ پینے والی خاتون نے اس نشےسے جان کیسے چھڑائی ؟دلچسپ طریقہ علاج بتا دیا

جوں جوں سیاسی بالیدگی ہورہی ہے‘ تہذیب ‘ رواداری اور وضع داری کے سارے اصول بکھر چکے ہیں‘ اب جب تک کوئی لیڈر دو چار گالیاں نکال کر اپنے مخالف کا کچا چٹھا نہ کھول دے اس وقت تک اس کی بھڑاس کم ہوتی ہے اور نہ ہی حمایتی والہانہ رقص کرتے ہیں۔۔۔ یوں لگتاہے آنے والے دنوں میں گالی کی زبان رائج ہی نہ ہوجائے کیونکہ نئے پاکستان کیلئے کسی نئی زبان کی بھی تو ضرورت ہوگی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…