پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

سعودی حکام نے زمزم : آب مبارک دستاویزی فلم تیار کر لی

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے زمزم : آب مبارک کے نام سے دستاویزی فلم تیار کی ہے۔جس میں آب زمزم کے نکلنے اور اس کے بعد مختلف مقامات تک پہنچنے کے مراحل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ۔ زمزم کا کنواں مسجد الحرام کے اندر مطاف کے صحن میں بیت اللہ سے 21 میٹر کے فاصلے پر زیر زمین واقع ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

دستاویزی فلم میں بتایا گیا کہ زمزم کے کنوئیں سے باہر آنے والے میٹھے پانی کی اوسط رفتار کم از کم 11 لیٹر فی سیکنڈ اور زیادہ سے زیادہ 18.5 لیٹر فی سیکنڈ ہے۔ زمزم کے کنوئیں کی گہرائی صرف 31 میٹر ہے۔ کنوئیں سے پانی کھینچنے کے لیے دو بھاری پمپوں کا سہارا لیا جاتا ہے جو شفٹوں میں 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔پانی کو کھینچ کر خود کار طریقے سے خصوصی پائپ لائنوں کے ذریعے کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز پروجیکٹ بھیجا جاتا ہے۔ یہ پروجیکٹ مکہ مکرمہ کے علاقے کدی میں واقع ہے۔ دستاویزی فلم میں دکھایا گیا کہ آب زمزم کو خصوصی ٹینکروں کے ذریعے مدینہ منورہ بھیجا جاتا ہے۔ ان ٹینکروں میں موجود پانی اس طریقے سے مقفل کیا جاتا ہے کہ وہ مسجد نبوی میں متعلقہ اہل کار ہی کھول سکتا ہے۔ عام دنوں میں روزانہ اوسطا 1.5 لاکھ لیٹر زمزم مدینہ منورہ بھیجا جاتا ہے جب کہ رمضان اور حج کے سیزن میں یہ مقدار روزانہ 4 لاکھ لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔آب زمزم کو جراثیم سے پاک کولروں میں بھر کر مسجد حرام اور مسجد نبوی پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد برقی گاڑیوں کے ذریعے ان کولروں کو حرمین میں متعین مختلف مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔ کولروں کی مجموعی تعداد 40 ہزار کے قریب ہے جن میں پینے کے لیے ٹھنڈا اور سادہ دونوں حالتوں میں آب دستیاب ہوتا ہے۔کولروں کے ساتھ پلاسٹک کے ڈسپوزایبل گلاس رکھے جاتے ہیں جن کا یومیہ استعمال 20 لاکھ کے قریب ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے

مطابق مسجد حرام میں آب زمزم کا یومیہ استعمال 7 لاکھ لیٹر کے قریب ہے جب کہ رمضان اور حج کے سیزن میں یہ مقدار یومیہ 20 لاکھ لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ حرمین کے امور کی پریذیڈنسی آب زمزم کے تحفظ اور اسے کسی بھی قسم کے جراثیم اور آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے۔ اس سلسلے میں 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات سے زمزم کے پانی کے یومیہ 100 نمونے لے کر ان کو اس مقصد کے لیے بنائی گئی خصوصی لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…