ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف یا جنرل اسددرانی؟ملک کیلئے اصل سکیورٹی رسک کون ہے؟حامد میر اصل حقیقت سامنے لے آئے

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ ایس اے دلت کے ساتھ لکھی گئی مشترکہ کتاب پر پاکستان ، بھارت سمیت دنیا بھر میں بھونچال برپا ہو چکا ہے۔ اسد درانی نے اپنی کتاب میں کئی ایسے انکشافات کئے ہیں جن کو پاک فوج نے مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ اسد درانی

کی کتاب پر پاکستان کے معروف کالم نگار حامد میر نے بھی ایک کالم ’سیکورٹی رسک کون ‘؟میںلکھا ہے کہ جنرل اسد درانی نے کچھ معاملات پر سستی شہرت کیلئے سنی سنائی باتوں کو انکشاف کے رنگ میں پیش کیا۔ اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے بارے میں اُن کا موقف الجزیرہ اور بی بی سی پر پہلے بھی آ چکا ہے۔ اُن کا موقف پاکستان کے ریاستی موقف سے مختلف تھا لیکن اُن سے کوئی جواب طلبی نہ ہوئی لہٰذا انہوں نے یہی موقف اے ایس دولت کے ساتھ مشترکہ کتاب میں بھی شامل کر دیا۔حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کا آپس میں ملنا جلنا اور مشترکہ کتاب لکھنا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ اعتراض کی بات یہ ہے کہ سستی شہرت کے لئے جنرل اسد درانی صاحب نے ایسے واقعات پر سنی سنائی باتوں کو انکشاف کا رنگ دیدیا جو اُن کی فوجی ملازمت کے بعد رونما ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حریت کانفرنس پاکستان نے بنوائی۔ درانی صاحب 1991ء میں آئی ایس آئی سے فارغ ہو گئے تھے جب کہ حریت کانفرنس 1993ء میں بنی تھی۔تاہم ان تمام باتوں کے بعد اب جنرل اسد درانی کو جی ایچ کیو میں طلب کر لیا گیا ہے لیکن کیا انہیں وارننگ دے کر چھوڑ دیا جائے گا ؟۔اسد درانی صرف آئی ایس آئی نہیں بلکہ ملٹری ایجنسی کے بھی سربراہ رہے ہیں۔جنرل اسد درانی کی طرف سے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔

اس وقت پوری قوم فوجی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ جنرل اسد درانی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔اور یہ دیکھنا ہو گا کہ جس ملک میں صحافیوں اور سیاستدانوں کو اصل سیکورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے اس ملک میں جنرل اسد درانی کے خلاف کی کاروائی ہو سکتی ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…