بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف یا جنرل اسددرانی؟ملک کیلئے اصل سکیورٹی رسک کون ہے؟حامد میر اصل حقیقت سامنے لے آئے

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ ایس اے دلت کے ساتھ لکھی گئی مشترکہ کتاب پر پاکستان ، بھارت سمیت دنیا بھر میں بھونچال برپا ہو چکا ہے۔ اسد درانی نے اپنی کتاب میں کئی ایسے انکشافات کئے ہیں جن کو پاک فوج نے مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ اسد درانی

کی کتاب پر پاکستان کے معروف کالم نگار حامد میر نے بھی ایک کالم ’سیکورٹی رسک کون ‘؟میںلکھا ہے کہ جنرل اسد درانی نے کچھ معاملات پر سستی شہرت کیلئے سنی سنائی باتوں کو انکشاف کے رنگ میں پیش کیا۔ اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے بارے میں اُن کا موقف الجزیرہ اور بی بی سی پر پہلے بھی آ چکا ہے۔ اُن کا موقف پاکستان کے ریاستی موقف سے مختلف تھا لیکن اُن سے کوئی جواب طلبی نہ ہوئی لہٰذا انہوں نے یہی موقف اے ایس دولت کے ساتھ مشترکہ کتاب میں بھی شامل کر دیا۔حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کا آپس میں ملنا جلنا اور مشترکہ کتاب لکھنا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ اعتراض کی بات یہ ہے کہ سستی شہرت کے لئے جنرل اسد درانی صاحب نے ایسے واقعات پر سنی سنائی باتوں کو انکشاف کا رنگ دیدیا جو اُن کی فوجی ملازمت کے بعد رونما ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حریت کانفرنس پاکستان نے بنوائی۔ درانی صاحب 1991ء میں آئی ایس آئی سے فارغ ہو گئے تھے جب کہ حریت کانفرنس 1993ء میں بنی تھی۔تاہم ان تمام باتوں کے بعد اب جنرل اسد درانی کو جی ایچ کیو میں طلب کر لیا گیا ہے لیکن کیا انہیں وارننگ دے کر چھوڑ دیا جائے گا ؟۔اسد درانی صرف آئی ایس آئی نہیں بلکہ ملٹری ایجنسی کے بھی سربراہ رہے ہیں۔جنرل اسد درانی کی طرف سے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔

اس وقت پوری قوم فوجی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ جنرل اسد درانی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔اور یہ دیکھنا ہو گا کہ جس ملک میں صحافیوں اور سیاستدانوں کو اصل سیکورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے اس ملک میں جنرل اسد درانی کے خلاف کی کاروائی ہو سکتی ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…