جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پاک،بھارت آبی تنازع: عالمی بینک نے مذاکرات کاآغاز کردیا، تفصیلا ت فرا ہم کر نے سے گر یزا ں ،وجہ بھی بتا دی

datetime 22  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن) بھارت کی جانب سے دریائے نیلم/کشن گنگا پر پانی کے بہاؤ کو کم کرنے اور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے افتتاح کے بعد پیدا ہونے والے پاک بھارت آبی تنازع پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان عالمی بینک سے رابطوں میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی بینک اور پاکستان کا 4 رکنی وفد مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچا، تاہم اس معاملے پر ہونے والے مذاکرات کی تفصیل بناتے سے انکار کیا۔خیال رہے کہ یہ

آبی تنازع اگر حل نہیں ہوتا تو پاکستان کو اس کے تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس حوالے سے عالمی بینک کی ترجمان علینا کارابان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ملاقات شیڈول ہے اور ہم اس بارے میں ضرورت کے مطابق بعد میں اطلاع دیں گے، دوسری جانب پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے اس بارے میں میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔یہ مذاکرات 4 اہم نکات کے گرد گھومتے ہیں، جن میں کشن گنگا دریا پر قائم ہونے والے ڈیم کی اونچائی، اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی حد، پاکستان کا تنازع کو حل کرنے کے لیے ثالثی عدالت کے قیام کا مطالبہ اور اس کے جواب میں بھارت کا بین الاقوامی ماہرین کا مطالبہ شامل ہے۔تاہم یہاں یہ بات واضح رہے کہ 20 دسمبر 2013 کو ہیگ کی ثالثی عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے کی دستاویزات میں دریاؤں کی حفاظت کے لیے پاکستانی کی کوششوں کا تعین کیا گیا تھا۔حتمی اعزاز کے نام سے موجود ثالثی عدالت کی اس دستاویز میں 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی گائڈلائن کے ذریعے کشن گنگا تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔حتمی اعزاز کا یہ تعین کیا گیا تھا کہ بھارت کم از کم 9 کیوبک میٹر فی سیکنڈ (کمک) پانی دریائے نیلم میں داخل کرے گا جو ہمہ وقت کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ (کے

ایچ ای پی) سے کم ہوگا، تاہم عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا تھا کہ بھارت یا پاکستان دریائے نیلم پر پانی کے رخ کی تبدیلی کے پہلے 7 سال بعد انڈس کمیشن یا پھر سندھ طاس معاہدے کے طریقہ کار کی مدد سے اس فیصلے پر دوبارہ غور طلب کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے 2010 میں بھارت کے خلاف ثالثی عدالت میں سماعت کے لیے رجوع کیا گیا اور درخواست کی گئی تھی کہ عدالت سندھ طاس معاہدے کے تحت کشن گنگا

ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ ( کے ایچ ای پی ) کی اجازت کا تعین کرے۔خیال رہے کہ کے ایچ ای پی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے کشن گنگا ڈیم کی طرف سے پانی کا رخ بونر نالہ کی طرف موڑا گیا اور بھارت کی جانب سے سرنگوں کا ایک نظام تیار کیا گیا جو پانی کی ٹربائن کو طاقت ور کرکے 330 میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔تاہم پاکستان کی جانب سے اس رخ موڑنے کی منصوبہ بندی کی اجازت کو چیلینج کیا گیا کیونکہ اس سے کے ایچ ای پی کے بعد تعمیر ہونے والے نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ ( این جے ایچ ای پی ) پر اثر پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…