بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

قومی غیرت اور ملکی مفاد میں کام کیسے کیا جاتا ہے؟ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت فنانسنگ سے انکار پر ایوب خان نے ورلڈ بینک کے ساتھ کیا، کیا تھا جس پر وہ بھی مجبور ہو گیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) تربیلا ڈیم کے ٹینڈرز دسمبر 1966 کو کھولے گئے، سب سے کم لاگت کا ٹینڈر 259 کروڑ ڈالرز کا تھا، اس کے علاوہ 296، 366، اور 384 کروڑ ڈالرز کی لاگت کے ٹینڈرز بھی تھے۔ ایوب خان کی گورنمنٹ نے سب سے کم لاگت دینے والی کمپنی کو سیلیکٹ کیا جو کہ ایک اٹالین کمپنی تھی اور اُس کا اشتراک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ تھا

لیکن ورلڈ بینک نے اس اٹالین کمپنی کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر ایوب خان نے متعلقہ وزراء سے میٹنگ کی جس میں وزیر خزانہ محمد شعیب اور سول سرونٹ غلام فاروق کو دو چیزوں کی تصدیق کرنے کو کہا گیا ایک یہ کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس اٹالین کمپنی کی ساکھ کیسی ہے اور دوسری بات یہ کہ کیا گورنمنٹ اپنے پلے سے ڈیم بنانے کے لیے مطلوبہ وسائل پورے کر سکتی ہے، 48 گھنٹے میں جواب مل گیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کمپنی کی ساکھ اچھی ہے اور گورنمنٹ اپنے ذخائر سے بیرونی فنانس کی کمی کو پورا کر سکتی ہے پھر ورلڈ بینک کو مطلع کیا گیا کہ ہمیں آپ کے قرضے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی ہم نے ڈیم کی تعمیر اپنے ذخائر سے شروع کی تھی، بعد میں ورلڈ بینک بھی فنانس منصوبے میں شامل ہوا اور مالی مدد دی۔ آج کے ہمارے لیڈرز اُسی کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہیں جو اُن کو کمیشن زیادہ دیتی ہے، تبھی ایوب خان کے بعد آج تک کوئی بھی لیڈر ایک ڈیم تک نہیں بنا سکا، ایوب خان نے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جس کی وجہ سے تمام بڑے بڑے قومی نوعیت کے منصوبے ایوب کے دور میں شروع ہوئے اس کے بعد ہر منصوبہ سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔  ایوب خان کی گورنمنٹ نے سب سے کم لاگت دینے والی کمپنی کو سیلیکٹ کیا جو کہ ایک اٹالین کمپنی تھی اور اُس کا اشتراک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ تھا لیکن ورلڈ بینک نے اس اٹالین کمپنی کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…