بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

قومی غیرت اور ملکی مفاد میں کام کیسے کیا جاتا ہے؟ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت فنانسنگ سے انکار پر ایوب خان نے ورلڈ بینک کے ساتھ کیا، کیا تھا جس پر وہ بھی مجبور ہو گیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) تربیلا ڈیم کے ٹینڈرز دسمبر 1966 کو کھولے گئے، سب سے کم لاگت کا ٹینڈر 259 کروڑ ڈالرز کا تھا، اس کے علاوہ 296، 366، اور 384 کروڑ ڈالرز کی لاگت کے ٹینڈرز بھی تھے۔ ایوب خان کی گورنمنٹ نے سب سے کم لاگت دینے والی کمپنی کو سیلیکٹ کیا جو کہ ایک اٹالین کمپنی تھی اور اُس کا اشتراک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ تھا

لیکن ورلڈ بینک نے اس اٹالین کمپنی کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر ایوب خان نے متعلقہ وزراء سے میٹنگ کی جس میں وزیر خزانہ محمد شعیب اور سول سرونٹ غلام فاروق کو دو چیزوں کی تصدیق کرنے کو کہا گیا ایک یہ کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس اٹالین کمپنی کی ساکھ کیسی ہے اور دوسری بات یہ کہ کیا گورنمنٹ اپنے پلے سے ڈیم بنانے کے لیے مطلوبہ وسائل پورے کر سکتی ہے، 48 گھنٹے میں جواب مل گیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کمپنی کی ساکھ اچھی ہے اور گورنمنٹ اپنے ذخائر سے بیرونی فنانس کی کمی کو پورا کر سکتی ہے پھر ورلڈ بینک کو مطلع کیا گیا کہ ہمیں آپ کے قرضے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی ہم نے ڈیم کی تعمیر اپنے ذخائر سے شروع کی تھی، بعد میں ورلڈ بینک بھی فنانس منصوبے میں شامل ہوا اور مالی مدد دی۔ آج کے ہمارے لیڈرز اُسی کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہیں جو اُن کو کمیشن زیادہ دیتی ہے، تبھی ایوب خان کے بعد آج تک کوئی بھی لیڈر ایک ڈیم تک نہیں بنا سکا، ایوب خان نے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جس کی وجہ سے تمام بڑے بڑے قومی نوعیت کے منصوبے ایوب کے دور میں شروع ہوئے اس کے بعد ہر منصوبہ سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔  ایوب خان کی گورنمنٹ نے سب سے کم لاگت دینے والی کمپنی کو سیلیکٹ کیا جو کہ ایک اٹالین کمپنی تھی اور اُس کا اشتراک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ تھا لیکن ورلڈ بینک نے اس اٹالین کمپنی کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…