جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے حکم پر معطل ہونیوالی لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ کا نیا کارنامہ، نوکری بچانے کیلئے کیا، کام کر دیا؟ نیا پنڈورا باکس کھل گیا، معاملہ چیف جسٹس تک پہنچ گیا

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی معطل وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا کارنامہ سامنے آگیا، کروڑوں روپے کی اراضی ایل ڈی اے کو دے دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سابقہ وی سی نے ذاتی مفادات کی خاطر بغیر رقم کی ادائیگی اور ایل ڈی اے افسران کی طرف سے دیگر تحفظات دور کرنے کے وعدوں کی تحریری ضمانت لیے بغیراراضی ایل ڈی اے کے سپرد کر دی ہے۔

جیل روڈ سگنل فری منصوبے کے تحت حکومت نے سابقہ وی سی ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کو لب سڑک کئی کنال جگہ ایل ڈی اے کو دینے کی خواہش کی جس پر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی معاملے کو سنڈیکیٹ لے گئیں جس نے اپنی 58 ویں میٹنگ میںفیصلہ کیا کہ اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اراضی دینے کے بعد یونیورسٹی کو ہونے والے نقصان اور فائدے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے۔جائزہ لینے کے لیے وائس چانسلر جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر نورین قریشی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے قرار دیا کہ اگر اراضی کی حوالگی انتہائی ناگزیر ہے تو اس کے عوض سکیورٹی ، ماحولیات اور مالی ازالہ کے معاملات تحریری طور پر ضمانت لے کر طے کیے جائیں ۔ تاکہ اراضی دینے سے یونیورسٹی کو درپیش مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جا سکیں۔جس کے بعد سنڈیکیٹ نے اپنے 59 ویں اجلاس میں کسی قانون ضابطہ کی پرواہ کیے بغیر اراضی حکومت کو دینے کی منظوری دے دی ، جبکہ ذرائع کے مطابق اس اجلاس کا کورم بھی پورا نہ تھا ، لیکن ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے اپنی وائس چانسلر کی سیٹ بچانے کے لیے کروڑوں روپے کی یونیورسٹی کی اراضی بغیر کسی معاوضے کے حکومت کو دے دی ،یونیورسٹی کی سٹاف ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان پنجاب یونیورسٹی کے اراضی دینے کے معاملے کی طرح اس پر بھی از خود نوٹس لیں، اور ذمہ ادران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…