رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام منعقدہ سیرت نگاری کے عالمی مقابلے میں معروف عربی کتاب ’’الرحیق المختوم ‘‘کواول انعام ملا ‘ مجھے اسکا اردو ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ‘ کتاب کو عربی سے عام فہم اردو میں مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے ترجمہ کیا ہے۔ تحقیق کے نقطہ نظر سے یہ ایک مستند کتاب ہے۔ باقی تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہوئے مسجد کے حوالے سے کچھ سطریں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں تاکہ آپ بھی سوچیں کہ مسجد کی تعمیر اور قیام کا مقصد کیا تھا۔ اس کا مسلمانوں کی زندگیوں میں کیا رول اور مقام تھا اور آج صدیوں کا سفر طے کر کے ہم اس مقصد اور مقصد کی روح سے کتنا دور ہوگئے ہیں؟
مزید پڑھیے:ایک ٹویٹ نے ٹویٹر کے اربوں ڈالر ڈبو دیئے
زمانہ بدل چکا‘ زندگی کے تقاضے نئے سانچوں میں ڈھل چکے‘ ضروریات اور رویے نئے طرز زندگی کے اسیر ہو چکے۔یہ بالکل جائز اور مناسب ہے کیونکہ دین اسلام جامد شے نہیں۔ دین ہر دور میں زندگی کے تقاضوں کا ساتھ دیتا رہا ہے۔ اس لئے نئی طرز زندگی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے دینی اداروں کے قیام کی روح سے غافل ہوجائیں اور اصل مقاصد کے احیاء پر توجہ نہ دیں۔ مسجدکو ہماری زندگی اور دین میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مسجد محض عبادت گاہ اورعمارت کا نام نہیں۔ یہ خانہ خدا ہے۔ یہ ایک ادارہ ہے جسے انگریزی میں انسٹی ٹیوشن کہتے ہیں اسی طرح جس طرح عدلیہ پارلیمنٹ وغیرہ ادارے ہیں۔ کبھی مسجد ان تمام اداروں پر محیط تھی اور ان تمام اداروں کی ضروریات پوری کرتی تھی لیکن زندگی کے طویل سفر میں ضروریات بڑھیں تو الگ ادارے قائم کرنا پڑے۔ ان باتوں سے قطع نظر بہت سے ایسے مقاصد اورتقاضے آج بھی مسجد کے ادارے سے پورے کیے جاسکتے ہیں اور مسجد کے قیام کی اصلی روح کا احیاء کیا جاسکتا ہے۔



















































