اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

”مجھے ایسے معاشرے کا حصہ ہونے پر افسوس ہے “ویرات کوہلی نے بھارتی معاشرے کے شرمناک چہرے سے نقاب الٹ دیا، ننھی آصفہ کے واقعہ پر ایسی بات کہہ دی کہ مودی سرکار کو مرچیں لگ جائیں گی

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )مجھے ایسے معاشرے کا حصہ ہونے پر افسوس ہوتا ہے، بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے مقبوضہ کشمیر کے مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کر دی جانیوالی ننھی آصفہ کے اندوہناک واقعہ پر بھارتی معاشرے کے چہرے سے نقاب الٹ دیا۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کر دی

جانیوالی ننھی آصفہ کے اندوہناک واقعہ پر بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے گھنائونے بھارتی چہرے سے نقاب الٹ دیا ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ویرات کوہلی نے ننھی آصفہ اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آئے اندوہناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا تمام ہندوستانیوں سے صرف ایک سوال ہے اگر خدانہ کرے ایسا واقعہ آپ کے خاندان میں کسی کے ساتھ ہو تو کیا آپ سائیڈ پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہیں گے یا مدد کریں گے؟میرے خیال میں ایسی چیزیں جان بوجھ کر ہونے دی جاتی ہیں اور اگر لوگ بھی ایسے واقعات پر کوئی اعتراض کرتے کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی بڑی بات نہیں ،ان کے خیال میں وہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسی گھناونی حرکت کر کے بچ سکتے ہیں کیونکہ سیاستدان بھی ان کی حمایت کریں گے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے جو نا قابل قبول ہے اور مجھے ایسے معاشرے کا ایک حصہ ہونے پر افسوس ہے ۔میرا تمام ہندوستانیوں سے صرف ایک سوال ہے اگر خدانہ کرے ایسا واقعہ آپ کے خاندان میں کسی کے ساتھ ہو تو کیا آپ سائیڈ پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہیں گے یا مدد کریں گے؟میرے خیال میں ایسی چیزیں جان بوجھ کر ہونے دی جاتی ہیں اور اگر لوگ بھی ایسے واقعات

پر کوئی اعتراض کرتے کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی بڑی بات نہیں ،ان کے خیال میں وہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسی گھناونی حرکت کر کے بچ سکتے ہیں کیونکہ سیاستدان بھی ان کی حمایت کریں گے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے جو نا قابل قبول ہے اور مجھے ایسے معاشرے کا ایک حصہ ہونے پر افسوس ہے ۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…