جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان کی درآمد شدہ گیس سے توقعات اور مشکلات

datetime 1  مئی‬‮  2015 |

پاکستان جوکہ موجودہ صورتحال میں کئی قسم کے بحرانوں کاسامناکررہاہے جس میں توانائی کابحران بھی ہے ۔پاکستان اپنی اقتصادی بحالی کے لیے چین کے ساتھ ہونے والے 46 بلین ڈالر مالیت کے معاہدوں کے تحت گیس درآمد کرنے کے لیے نئے ٹرمینلز اور پائپ لائنز بچھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بری منصوبہ بندی، قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال اور سکیورٹی کے مسائل اس کی راہ کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔پاکستانی حکومت ملک میں توانائی کے بحران سے نمٹنے اور صعنت کے شعبے میں ترقی کے لیے گیس درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت طویل المدتی منصوبے کے طور پر مقامی سطح پر گیس کی پیداوار بڑھانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔غیرملکی میڈیا کے ایک جائزے کے مطابق توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی حکومت اس سیکٹر کو مناسب طور پر چلانے کے لیے اقدامات کرے اور اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ وہ بلوچستان میں موجود گیس کے بڑے ذخیروں کو نکالنے کے حوالے سے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاملات میں تسلسل کو یقینی بنائے۔پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حکومتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستانی حکومت کے پلاننگ کمیشن کے سابق رکن شاہد ستار کے مطابق، ”سکیورٹی کی صورتحال کو گیس کی تلاش کے کام پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ اور کہیں بھی نہیں ہوتا۔“ شاہد ستار مزید کہتے ہیں، ”لیکن یہ تاریخ رہی ہے کہ حکومت دستخط شدہ معاہدوں سے پھِر جاتی ہے، جس کی وجہ سے غیر یقینی پیدا ہوتی ہے۔“پاکستان کے 180 ملین شہری گیس کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ گیس ملکی توانائی کی تقریبا آدھی ضروریات پورا کرتی ہے جبکہ ہر پانچ میں سے چار کاروں میں بطور فیول بھی استعمال ہوتی ہے۔

02

پاکستان اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ اپنی گیس پائپ لائن کو منسلک کر دے گا۔پاکستان اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ اپنی گیس پائپ لائن کو منسلک کر دے گا۔پاکستان میں قدرتی گیس کے قریب 105 ٹریلین کیوبک فٹ ذخائر موجود ہیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن کے اندازوں کے مطابق یہ مقدار پاکستان کی موجودہ ضروریات کو اگلے 50 برس تک پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔تاہم پاکستان اس وقت محض چار بلین کیوبک ف±ٹ گیس روزانہ پیدا کرتا ہے جو اس کی ضروریات کے دو تہائی سے بھی کم ہے۔ اسی باعث گھروں میں اکثر گیس کی کمی رہتی ہے اور سی این جی اسٹیشن بھی بند رہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گیس کی دولت سے مالا مال پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ دلچسپی کا حامل نہیں ہے کیونکہ تیل کو نسبتا جلد مارکیٹ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم پاکستان اپنی توانائی کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گیس درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔پاکستان لیکوئیفائیڈ نیچرل گیس LNG کا پہلا ٹرمینل گزشتہ ماہ ہی طے شدہ مدت میں مکمل ہوا ہے اور اس نے گزشتہ ماہ سے گیس کی شپمنٹس وصول کرنا بھی شروع کر دی ہیں۔ پاکستانی حکومت ایسے دو مزید ٹرمینل بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد انہیں پائپ لائنز کے ذریعے باہم منسلک کیا جائے گا۔ یہ پائپ لائنز روسی اور چینی سرکاری کمپنیوں کے تعاون کے ساتھ بچھائی جائیں گی۔ اگر ایران پر امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو پاکستان اپنے اس ہمسایہ ملک کے ساتھ اپنی گیس پائپ لائن کو منسلک کر دے گا۔نئے تعمیر شدہ گیس ٹرمینل کو مسائل کا سامنا ہے اور گیس کے بڑے ٹینکرز کو مذکورہ ٹرمینل تک پہنچنے کے لیے مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا جس کی وجہ وہاں پانی کی گہرائی کی کمی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے سے قبل پاکستان قطر گیس کے ساتھ اپنے سمجھوتے کو حتمی شکل نہیں دے سکتا۔ اس کے علاوہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ گیس کی قیمتوں میں ان دنوں کمی ہے اس لیے ایک طویل المدتی معاہدہ کرنا قابل عمل نہیں ہے۔جس کے بعد پاکستان کے مشکلات میں اضافہ ہوسکتاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…