جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

لیہ میں یہ 2 نوجوان منہ میں جوتے ڈالے تصاویر کیوں بنوا رہے ہیں؟ ایسی خبرآگئی کہ انسانیت شرما گئی، تفصیلات ایسی کہ جان کر آپ کے بھی غصے سے کان لال ہوجائیں گے

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں عموماََ پنچایت کے غیر انسانی فیصلوں کی بدولت بڑے المیے جنم لیتے رہتے ہیں اور بااثر افراد پنچایت کے ذریعے اپنے مخالفین کو انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان کے علاقے پنچاب اور سندھ میں عموماََ اس قسم کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی حصے میں لیہ میں پیش آیا ہے

جہاں بکری چوری کے شبے میں با اثر زمیندار کی مرضی کے مطابق پنچایت نے انسانیت سوز سزا سناتے ہوئے 2نوجوانوں کو جرمانے کے ساتھ ساتھ معافی کیلئے منہ میں جوتے ڈال کر پنچایت کے گرد چکر لگانے کی سزا دی اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا ہے۔ لیہ کے تھانہ پیرجگی کی حدود میں واقع چک 169ٹی ڈی اے میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق بکری چوری کے شبے میں مقامی زمیندار شبیر جٹ کے ڈیرے پر ہونیوالی پنچائیت میں 2 کزنوں سرور اور احسان کو والد سمیت بلا کر بٹھا دیا گیا. جہاں ان پر بکریاں چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئےپنچائیت کے سرپنچوں رمضان میلوانہ اور غلام علی میلوانہ نے فیصلہ دیتے ہوئے نوجوانوں پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا اور معافی تلافی کیلئے منہ میں جوتے ڈال کر پنچائیت کے گرد چکر لگانے کی سزا سنائی. جس پر عملدرآمد بھی کرایا گیا. پنچائیت کے شرمناک فیصلے کی اطلاع پر پولیس تھانہ پیر جگی نے پنچایتی سرپنچوں سمیت 6 نامزد اور 25 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے. جبکہ پنچایتی سرپنچ محمد رمضان میلوانہ سمیت 3افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا کا جنوبی حصہ جو کہ جنوبی پنجاب کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ترقی کے اس دور میں بھی انتہائی پسماندگی کا شکار ہے اور وہاں کی زیادہ تر آبادی مقامی با اثر زمینداروں، جاگیرداروں اور گدی نشینوں کے زیر اثر ہے ۔ یہ زمیندار، جاگیردار اور گدی نشین عموماََ پنچایتوں میں ایسے ہی انسانیت سوز فیصلے سناتے رہتے ہیں جو کبھی کبھار ہی میڈیا تک پہنچ پاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…