ادب کا انسان کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے‘ ہر دور کا ادب اپنے عہد کا آئینہ ہوتا ہے‘ کامیاب ادیب اسی کو کہا جاتا ہے جو اپنی تحریروں میں اپنے گردو پیش میں رونما ہونے والے واقعات ‘معاشرتی رویوں اور بدلتے رجحانات کی تہذیبی اقدار اور طرز زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کی بھرپور عکاسی کر سکے۔ شاید اسی لئے ادیب کو اپنے عہد کا حقیقی عکاس سمجھا جاتا ہے۔ ادیب اور قاری کار شتہ اسی صورت میں مستحکم ہو سکتاہے جب پڑھنے والے کو اس کی تحریروں میں اپنی زندگی کی تصویر نظر آئے اور وہ ان تحریروں کو اپنے دل کی آواز سمجھے۔ وہ لوگ جو ادب سے لگاؤ رکھتے ہیں اور مطالعے سے جن کو خاص شغف ہے وہ یقیناً معروف ادیبوں کی کتابوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں لیکن لکھتے وقت یہ بڑے ادیب عجیب و غریب طریقے اختیار کرتے ہیں‘ ان سے بہت کم لوگ واقف ہیں حالانکہ وہ نہایت دلچسپ ہیں۔ عام قاری بھی یقیناً جاننا چاہتا ہے کہ اس کا پسندیدہ ادیب کیسے اتنی منفردوشاہکار تحریر تخلیق کر تاہے۔ اس مضمون میں ہم ان چند مشہور ادیبوں کے متعلق جاننے کی کوشش کریں گے جو بڑے انوکھے انداز سے اپنے ادبی شہ پارے تخلیق کرتے تھے۔



















































