بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے حکمرانوں نے کشمیر آزاد کروانے کے تین شاندار مواقع کب اور کس نے ضائع کیے؟ امریکہ کا کیا گھناؤنا کردار رہا؟ حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف و سینئر صحافی حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 71 سالوں میں کم از کم تین مرتبہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے مواقع ضائع کئے گئے۔ حامد میر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ اس لیے نہیں بن سکا کہ جب سے پاکستان بنا ہے سیاسی اور فوجی قیا دت کی پالیسیوں پر غیر ملکی طاقتوں کا اثر و نفوس بہت حاوی تھا،

انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے 71 سال میں کم از کم تین دفعہ کشمیر کو پاکستان کاحصہ بنانے کے مواقع ضائع کیے ہیں، 1948ء میں سب سے پہلا موقع آیا تھا جب پاکستان اس پوزیشن میں تھا کہ وہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا سکتا تھا، اس کے بعد دوسرا موقع 1962ء میں کشمیر کی آزادی کا آیا، جب چین اور بھارت کی لڑائی شروع ہو گئی تھی تو اس موقع پر چین کی جانب سے پاکستان کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ انڈیا نے اپنی ساری فوج کو کشمیر کے بارڈر سے نکال کر چین کے بارڈر پر بھیج دیا ہے اس وقت پاکستان کے لیے سنہری موقع تھا کہ وہ صرف کشمیر میں داخل ہو کر سری نگر تک جا کے پاکستان کا جھنڈا لہرا دیتا لیکن اس وقت کے جنر ل ایوب خان امر یکی پر یشر میں آ گئے تھے اور انہوں وہ کام نہیں کیا، حامد میر نے کہا کہ اس کے بعد جب 1994-95 میں کشمیریوں کی تحریک آزادی اپنے جوبن پر پہنچی تو انڈیا کا پورا سسٹم مقبوضہ کشمیر میں تبا ہ ہوگیا تھا، اس وقت اگر پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے کی بجائے کشمیر کے مسئلے پر فوکس کرتی تو اس پوزیشن میں تھے کہ صرف انٹرنیشنل پریشر ڈال کر اور جو وہاں سیاسی تحر یک چل ر ہی تھی اس کی مدد کرکے کشمیر کو آزاد کروایا جا سکتا تھا مگر ہم نے وہ موقع بھی ضائع کر دیا، سینئر صحافی نے کہا کہ اگر پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیا دت متفق ہو جائے اور ایک پالیسی بنائی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم کشمیر کے مسئلے کو حل نہ کر سکیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…