ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

نقیب اللہ محسود کو میں نے نہیں مارا بلکہ اس کو قتل کرنے والے دراصل کون ہیں؟ راؤ انوار نے بالاخر زبان کھول دی، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نقیب اللہ محسود قتل کیس، ابتدائی تفتیش میں راؤ انوار نے منہ کھول دیا۔ تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود قتل کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں سابق ایس ایس پی ملیر اور قتل کیس کے مرکزی کردار راؤ انوار نے منہ کھول دیا ہے۔ راؤ انوار نے قتل کا سارا ملبہ اپنے ماتحت افسران و اہلکاروں پر ڈالتے ہوئے جائے وارداتپر عدم موجودگی اور واقعے سے بے خبری ظاہر کر دی ہے۔

راؤ انوار نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے پہلے بیا ن کو دہراتے ہوئے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ نقیب کے ساتھ مقابلے اور دہشت گرد ہونے کی بریفنگ اور اطلاع دی گئی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی میں شامل افسر نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا ہے کہ راؤ انوار سے تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور اس دوران راؤ انوار نے اپنا پہلا بیان دہرایا ہے۔ پاکستان کے موقر اخبار روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے تحقیقاتی کمیٹی میں شامل افسران کو ابتدائی تفتیش کے دوران بتایاکہ13جنوری کو شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے مقابلے کے دوران نقیب اللہ سمیت 4افراد کو ہلاک کیا تھا۔ جس کی اطلاع پولیس کنٹرول کے ذریعے واکی ٹاکی پر ملی تھی اور انھوں نے فوری طور پر ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت سے رابطہ کیا تو اس نے بھی مقابلے کے بارے میں بتایا، اس اطلاع پر جب موقع پر پہنچا تو مقابلہ ختم ہوچکا تھا لیکن وہاں ڈی ایس پی قمر احمد اور ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت اپنی پولیس پارٹی کے ہمراہ جائے وقوعہ پر موجود تھے جو قانونی کارروائی کررہے تھے۔سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی اچانک سپریم کورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس میں پیش ہونے کے بعد صورتحال نے ڈرامائی موڑ اختیار کر لیا ہے۔ ایس ایس پی راؤ انوار سپریم کورٹ میں اچانک پیش ہوئے، وہ سفید گاڑی میں منہ پر ماسک لگائے سپریم کورٹ آئے، ان کی گاڑی کو سپریم کورٹ کے اندر داخل ہونے والے دروازے تک خصوصی طور پر لایا گیا۔ سماعت کے دوران ملزم راؤ انوار کے وکیل نے کہا ہے کہ میرے موکل نے خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ راو انوار نے عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کرکے کوئی احسان نہیں کیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…