جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

نقیب اللہ محسود کو میں نے نہیں مارا بلکہ اس کو قتل کرنے والے دراصل کون ہیں؟ راؤ انوار نے بالاخر زبان کھول دی، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 23  مارچ‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نقیب اللہ محسود قتل کیس، ابتدائی تفتیش میں راؤ انوار نے منہ کھول دیا۔ تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود قتل کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں سابق ایس ایس پی ملیر اور قتل کیس کے مرکزی کردار راؤ انوار نے منہ کھول دیا ہے۔ راؤ انوار نے قتل کا سارا ملبہ اپنے ماتحت افسران و اہلکاروں پر ڈالتے ہوئے جائے وارداتپر عدم موجودگی اور واقعے سے بے خبری ظاہر کر دی ہے۔

راؤ انوار نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے پہلے بیا ن کو دہراتے ہوئے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ نقیب کے ساتھ مقابلے اور دہشت گرد ہونے کی بریفنگ اور اطلاع دی گئی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی میں شامل افسر نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا ہے کہ راؤ انوار سے تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور اس دوران راؤ انوار نے اپنا پہلا بیان دہرایا ہے۔ پاکستان کے موقر اخبار روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے تحقیقاتی کمیٹی میں شامل افسران کو ابتدائی تفتیش کے دوران بتایاکہ13جنوری کو شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے مقابلے کے دوران نقیب اللہ سمیت 4افراد کو ہلاک کیا تھا۔ جس کی اطلاع پولیس کنٹرول کے ذریعے واکی ٹاکی پر ملی تھی اور انھوں نے فوری طور پر ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت سے رابطہ کیا تو اس نے بھی مقابلے کے بارے میں بتایا، اس اطلاع پر جب موقع پر پہنچا تو مقابلہ ختم ہوچکا تھا لیکن وہاں ڈی ایس پی قمر احمد اور ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت اپنی پولیس پارٹی کے ہمراہ جائے وقوعہ پر موجود تھے جو قانونی کارروائی کررہے تھے۔سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی اچانک سپریم کورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس میں پیش ہونے کے بعد صورتحال نے ڈرامائی موڑ اختیار کر لیا ہے۔ ایس ایس پی راؤ انوار سپریم کورٹ میں اچانک پیش ہوئے، وہ سفید گاڑی میں منہ پر ماسک لگائے سپریم کورٹ آئے، ان کی گاڑی کو سپریم کورٹ کے اندر داخل ہونے والے دروازے تک خصوصی طور پر لایا گیا۔ سماعت کے دوران ملزم راؤ انوار کے وکیل نے کہا ہے کہ میرے موکل نے خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ راو انوار نے عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کرکے کوئی احسان نہیں کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…