بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

پاکستان کو پانی کے خطرنا ک بحران کا سامنا،خطرے کی گھنٹی بج گئی، اربوں ڈالرز کا نقصان ایک طرف مگرعوام کے ساتھ اب کیا ہوگا؟ انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 19  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو پانی کے خطرنا ک بحران کا سامنا ہے تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی۔ پانی کے حالیہ بحران سے گندم کے پیداواری ہدف کا حصول بھی مشکل ہوجائے گا۔ پنجاب کو 60 فیصد جبکہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں 70 فیصد شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ملک بھر میں پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ مستقبل میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے ۔

غیرملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آبی ماہرین کہتے ہیں پاکستان دنیا کے آبی وسائل کی شدید قلت کے شکار 15 ممالک میں شامل ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا نمبر ہے جبکہ پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی کم ہے ۔ بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق کسی بھی ملک کی مجموعی پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کم ازکم 120 دنوں کا پانی ذخیرہ ہوناچاہیے لیکن پاکستان کے پاس صرف 30 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ پاکستان اپنے دستیاب آبی وسائل کا صرف 7 فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب 40 فیصد ہے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پوری دنیا میں سب سے کم ہے ۔ پاکستان اپنے دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کر کے سالانہ 30 سے 35 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے ۔ پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک بنتا جارہا ہے تاہم سٹیک ہولڈرز اور بالخصوص پالیسی سازوں میں اس بڑھتے ہوئے خطرے کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے واپڈا حکام بشمول سابق چیئرمین شمس الملک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے ، جبکہ اس وقت پاکستان میں آبی ذخائر سے متعلق کوئی پالیسی موجود نہیں،پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر ضروری ہے اور مہمند اور دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع نہ کی گئی تو ملک میں شدید آبی بحران پیدا ہوسکتا ہے ۔

پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری حال ہی میں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بد قسمتی سے ملک کی کوئی واٹر پالیسی نہیں جبکہ پاکستان کو بڑے آبی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے ۔وفاقی وزیر نے بتایا پانی کے کم ذخائر کے باعث پاکستان میں صرف 10 فیصد پانی استعمال ہوتا ہے اور باقی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے آبی ماہر محمد طاہر انور کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 برس سے مختلف آبی منصوبوں سے متعلق بات کی جارہی ہے مگر اس حوالے سے عملی طور پر آج تک کچھ نہیں ہوا۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…