ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کو پانی کے خطرنا ک بحران کا سامنا،خطرے کی گھنٹی بج گئی، اربوں ڈالرز کا نقصان ایک طرف مگرعوام کے ساتھ اب کیا ہوگا؟ انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 19  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو پانی کے خطرنا ک بحران کا سامنا ہے تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی۔ پانی کے حالیہ بحران سے گندم کے پیداواری ہدف کا حصول بھی مشکل ہوجائے گا۔ پنجاب کو 60 فیصد جبکہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں 70 فیصد شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ملک بھر میں پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ مستقبل میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے ۔

غیرملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آبی ماہرین کہتے ہیں پاکستان دنیا کے آبی وسائل کی شدید قلت کے شکار 15 ممالک میں شامل ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا نمبر ہے جبکہ پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی کم ہے ۔ بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق کسی بھی ملک کی مجموعی پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کم ازکم 120 دنوں کا پانی ذخیرہ ہوناچاہیے لیکن پاکستان کے پاس صرف 30 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ پاکستان اپنے دستیاب آبی وسائل کا صرف 7 فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب 40 فیصد ہے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پوری دنیا میں سب سے کم ہے ۔ پاکستان اپنے دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کر کے سالانہ 30 سے 35 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے ۔ پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک بنتا جارہا ہے تاہم سٹیک ہولڈرز اور بالخصوص پالیسی سازوں میں اس بڑھتے ہوئے خطرے کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے واپڈا حکام بشمول سابق چیئرمین شمس الملک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے ، جبکہ اس وقت پاکستان میں آبی ذخائر سے متعلق کوئی پالیسی موجود نہیں،پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر ضروری ہے اور مہمند اور دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع نہ کی گئی تو ملک میں شدید آبی بحران پیدا ہوسکتا ہے ۔

پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری حال ہی میں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بد قسمتی سے ملک کی کوئی واٹر پالیسی نہیں جبکہ پاکستان کو بڑے آبی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے ۔وفاقی وزیر نے بتایا پانی کے کم ذخائر کے باعث پاکستان میں صرف 10 فیصد پانی استعمال ہوتا ہے اور باقی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے آبی ماہر محمد طاہر انور کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 برس سے مختلف آبی منصوبوں سے متعلق بات کی جارہی ہے مگر اس حوالے سے عملی طور پر آج تک کچھ نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…