جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پرندے بچاﺅبتیاں بھجاﺅ

datetime 28  اپریل‬‮  2015 |

مہاجر چڑیوں کے تحفظ کے لیے نیویارک کی حکومت نے شہر کی تیز روشنیوں کو گل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔مہاجر پرندوں کی سہولت کے لیے امریکی ریاست نیویارک میں سرکاری عمارتوں سے غیر ضروری روشنی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پرندوں کو بہار اور خزاں کے موسم میں اپنے راستے تلاش کرنے میں آسانی ہو۔مہاجر پرندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے راستے اور سمت کا اندازہ ستاروں سے کرتے ہیں لیکن برقی روشنی سے ان کے بھٹکنے کا امکان رہتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ عمارتوں سے ٹکراجاتے ہیں۔اس صورت حال کو روشنی کی مہلک کشش یا جاذب نظری کا نام دیا گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کی وجہ سے امریکہ میں ایک ارب پرندے ہر سال ہلاک ہو جاتے ہیں۔

02

بحرِ اوقیانوس کی جانب پرواز کرنے والی کڑوروں مہاجر پرندے ہرسال نیویارک سے ہوتے ہوئے گزرتے ہیں۔حکومت کے اس فیصلے سے یہ امید کی جارہی ہے کہ اب جو پرندے رات میں اس شہر سے گزریں گے ان کا مزید شمال کی جانب جانے کا زیادہ امکان ہے۔نیویارک سے موسم بہار اور موسم خزاں کے درمیان کروڑوں چڑیاں شمال کی جانب ہجرت کرتی ہیں۔نیویارک کے گورنر اینڈریو کوومو نے پیر کو کہا کہ بہار اور خزاں کے مشغول ترین ہجرت کے ایام میں سرکاری عمارتوں پر لگی تیز بیرونی روشنیوں کو رات 11 بجے اور صبح صادق کے درمیان گل رکھا جائے گا۔حکومت نیشنل آڈوبون سوسائٹی کے روشنی گل کرو پروگرام میں شامل ہوگی ہے۔ خیال رہے کہ نیویارک کی متعدد معروف عمارتیں جیسے روکرفیلر سنٹر، کرسلر بلڈنگ اور ٹائم وارنر سنٹر پہلے سے ہی سوسائٹی کے روشنی بجھاو پروگرام میں شامل ہیں۔مسٹر کوومو نے کہا کہ ’نیویارک کے جنگلوں، جھیلوں اور ندیوں میں مہاجر چڑیوں کے تحفظ میں تعاون کی جانب یہ آسان اقدام ہیں۔‘انھوں نے جدید ’آئی لو این وائی برڈنگ‘ نامی ویب سائٹ کا اعلان کیا جو ’برڈ واچنگ‘ یا پرندہ بینی کے ساتھ بجلی بجھاو مہم میں شرکت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی کہ اس میں کیسے شرکت کی جاسکتی ہے۔

03

یہ تنظیم پہلے سے ہی دوسرے کئی بڑے شہروں میں مہاجر پرندوں چڑیوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان شہروں میں بالٹیمور، شکاگو، سین فرانسسکو وغیرہ شامل ہیں۔کئی اہم عمارتیں چڑیوں کے تحفظ کے پیش نظر بجلی گل کرو مہم میں پہلے سے ہی شامل ہیںروشنی کی مہلک کشش واربلر، تھرشز مہاجر پرندے کو مقامی پرندوں کے مقابلے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔موہلین برگ کالج میں علم طیور اور کنزرویشن بایلوجی کے پروفیسر ڈینیئل کلیم جنھوں نے پرندوں کے کھڑکیوں سے ٹکرانے کی نفسیات پرمطالع کیا ہے انھوں نے گذشتہ سال بتایا تھا کہ پرندوں کا کھڑکیوں سے ٹکرانے کا عمل بطور خاص پریشان کن ہے کیونکہ ان میں کمزور کے علاوہ مضبوط ترین پرندوے بھی اتنی ہی تعداد میں مرتے ہیں۔امریکی ناول نگار اور پرندوں سے محبت کرنے والے جوناتھن فرینزن نے اسی ماہ نیویاکر میں شائع ایک مضمون میں مینیوسوٹا سٹیڈیم بنانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ انھوں نے پرندوں کے شیشوں سے ٹکرانے کو کم کرنے کے لیے مخصوص پیٹرن والے شیشوں کا استعمال نہیں کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…