پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

‘‘آخر یہ بندہ کون ہے؟میں اسے خود دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ وہ پاکستانی شہری جس سے ملنے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان بیتاب ہو گئے

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مبینہ جعلی دوا ساز کمپنی کا مالک کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا۔ آخریہ بندہ کون ہے؟ ،اب تواس شخص کوخوددیکھنے کیلئے مشتاق ہوں، چیف جسٹس کا دوران سماعت استفسار، ڈریپ اس شخص سے ڈرگیاہے، ہوسکتاہے اس شخص کودیکھ کرمیں مقدمہ ہی واپس لے لوں، جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان

جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈریپ کی جعلی دواسازکمپنی کیخلاف درخواست کی سماعت کے دورانمبینہ جعلی دوا ساز کمپنی کے مالک کو طلب کر لیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ آخریہ بندہ کون ہے؟ ،اب تواس شخص کوخوددیکھنے کیلئے مشتاق ہوں،چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ڈریپ اس شخص سے ڈرگیاہے، ہوسکتاہے اس شخص کودیکھ کرمیں مقدمہ ہی واپس لے لوں۔چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا کہ غیرمعیاری ادویہ سازکمپنی کامالک ڈریپ کے قابوکیوں نہیں آرہا؟،سی او ڈریپ نے کہا کہ ریاست 4 سال سے بے یارومددگارہے،چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کمپنی غیرمعیاری ادویات بنارہی ہے،اس پر سی او ڈریپ نے کہا کہ کمپنی کامالک اتناطاقتورہے کہ پکڑنہیں سکتے،ان کا کہناتھا کہ کمپنی کیخلاف ایکشن لیں تو ادارے ہمارے خلاف متحرک ہوجاتے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخریہ بندہ کون ہے؟،اب تواس شخص کوخوددیکھنے کیلئے مشتاق ہوں، چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ڈریپ اس شخص سے ڈرگیاہے،ہوسکتاہے اس شخص کودیکھ کرمیں مقدمہ ہی واپس لے لوں۔سی او ڈیپ نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ڈرنہیں رہی،چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ حیرانی کی بات ہے،کمپنی کیخلاف درخواست ڈریپ نے دی،سپریم کورٹ نے سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔

عدالت نے آئی جی پولیس اسلام آبادکوکمپنی کے مالک کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…