ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

نقیب اللہ معصوم شہری تھا جسے بے گناہ مارا گیا،اعلیٰ سطح پر تصدیق ہوگئی،راؤ انوار کا اب کیا بنے گا،اہم اعلان

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی) آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے کہا ہے کہ نقیب اللہ معصوم شہری تھا جسے بے گناہ مارا گیا،معاشی بدحالی اوربیروزگاری بھی اسٹریٹ کرائمزکی وجوہات ہیں۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نظر نہ آنے والی چیزیں بھی سامنے آرہی ہیں، اب دکان میں چوری کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بھرتی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جاچکا ہے، 3

مواقع دینے کے باوجود بیشتربرطرف اہلکار امیدوں پر پورا نہیں اترسکے۔ نقیب اللہ کیس سے متعلق اے ڈی خواجہ نے کہا کہ نقیب اللہ معصوم شہری تھا جسے بے گناہ مارا گیا،اس کا کوئی دفاع نہیں کرسکتا کیونکہ پولیس افسران اس معاملے میں شامل ہیں۔اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی کی آبادی 2 کروڑ سے زائد ہے، جس میں سے 50 فیصد کچی آبادیوں میں رہتے ہیں، اس کے علاوہ کراچی میں بغیر دستاویزات کے رہنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، معاشی بدحالی اوربیروزگاری بھی اسٹریٹ کرائمزکی وجوہات ہیں، اسٹریٹ کرائمزروکنا ہماری ذمہ داری ہے مگر صرف پولیس کو ذمہ دار نہ ٹہرایا جائے، پولیس نے دہشت گردوں اور اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لئے قربانیاں دی ہیں، 15 دن میں 200 اسٹریٹ کرمنل پکڑے جا چکے ہیں لیکن ہمیں اس سلسلے میں جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔گزشتہ دنوں سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان انتظار کے معاملے پر آئی جی سندھ نے کہا کہ انتظار کے قتل جیسے واقعات بھارت میں کئی ہوئے ہیں، ہم نے انتظار کے والد کے تمام مطالبات مانے، پولیس نے انتظارکے والد کو خود اطلاع کی، ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں کو جرائم پیشہ افراد کی طرح سزا ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…