بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

بھارتی زرعی مصنوعات افغانستان و ایران سے پاکستان لائے جانے کا انکشاف

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے زرعی مصنوعات کی درآمد پر سخت قرنطینہ قوانین کے اطلاق اور امپورٹ پرمٹ کے بغیر درآمد کی جانیوالی زرعی مصنوعات کو کلیئرنس دینے سے انکار کے بعد بھارت سمیت دیگر ملکوں کی ممنوع زرعی مصنوعات افغانستان اور ایران کے راستے بلوچستان کے سرحدی راستوں کے ذریعے پاکستان لائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بلوچستان کے تاجروں کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر، ڈی جی کسٹمز انٹیلی جنس، چیف کلکٹر کسٹمز نارتھ اینڈ ساتھ، وزارت تجارت، وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اور ایف سی کے سربراہ کو ارسال کردہ خط کے ذریعے انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے سرحدی مقامات چمن، تفتان، پنجگور، پوائنٹ 250، مند اور مشاخیل بارڈرز کے راستے بڑے پیمانے پر بھارتی، امریکی، ایرانی اور ویتنام سمیت دیگر ملکوں کی زرعی مصنوعات غیرقانونی طریقے سے امپورٹ پرمٹ کے بغیر پاکستان میں لائی جارہی ہیں۔تاجروں کے مطابق ان سرحدی راستوں پر تعینات کسٹمز کا عملہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر کوئی کارروائی نہیں کررہا جس کی وجہ سے پاکستان کے زرعی شعبے کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔خط میں کہاگیا کہ بھارتی، ایرانی، امریکی اور ویتنام سمیت دیگر ملکوں کی زرعی مصنوعات جنہیں پاکستانی حکام نے امپورٹ پرمٹ کے بغیر سمندری راستوں سے پاکستان آنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے انھیں کراچی سے ایرانی بندرگاہ بندرعباس پورٹ پر منتقل کیا جارہا ہے اور ایرانی اور افغان سرٹیفکیٹ آف اوریجن حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی مسترد کردہ مصنوعات ایرانی اور افغان مصنوعات قرار دے کر بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے پاکستان لائی جارہی ہیں۔تاجروں کے مطابق ایرانی اور افغان مصنوعات کیلیے بھی امپورٹ پرمٹ کا حصول لازم ہے۔

تاہم کسٹمز حکام ایرانی اور افغان سرٹیفکیٹ آف اوریجن کی آڑ میں بھارتی مصنوعات کو پاکستان میں آنے سے روکنے کے بجائے امپورٹ پرمٹ کی خلاف ورزی میں معاونت کے مرتکب ہو رہے ہیں، اسی طرح تفتان ایران بارڈر سے بھی امپورٹ پرمٹ کے بغیر زرعی مصنوعات پاکستان درآمد کی جارہی ہیں۔تاجروں نے ایف بی آر اور کسٹمز حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے سرحدی راستوں سے بھارتی، امریکی، ایرانی اور ویتنام سمیت دیگر ملکوں کی زرعی مصنوعات کی غیرقانونی درآمد کو سختی سے روکا جائے تاکہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے والے زرعی شعبے اور اس سے وابستہ تاجروں اور کاشت کاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…