منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کڈنی کے امراض کو کم کرنے میں مددگار پھل

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کڈنی اگرچہ انسانی جسم کا انتہائی چھوٹا عضو ہے، مگر اسے انسانی صحت، نشو و نما، بہتر اور زیادہ زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ گردے نہ صرف انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے، بلکہ یہ کھائی جانے والی غذا کو ہارمون میں تبدیل کرکے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، پیشاب کی روانی کو بہتر کرنے اور انسانی جسم کو بڑھانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ جس طرح زیادہ پانی پینا کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے ۔

اسی طرح کئی ایسے پھل بھی ہیں جو کڈنی کے امراض کو کم کرنے یا پھر انہیں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے انسان کو یومیہ 2 ہزار ملی گرام سے کم سوڈیم، 2 ہزار ملی گرام سے کم پوٹاشیم اور ایک ہزار ملی گرام سے کم فاسفورس استعمال کرنی چاہیے، لیکن بعض غذاؤں میں ان کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس وجہ سے انسان گردوں کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: گردوں کی پتھری اور اس کی علامات اسی طرح کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے پروٹین کی بھی کم سے کم مقدار استعمال کرنا لازمی ہوتی ہے۔ کڈنی کی بہتری کے لیے یومیہ 15 گرام پروٹین کا استعمال بہتر ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں آسانی سے ملنے والے درج ذیل پھل کھانے والے افراد کڈنی کے مسائل سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ان پھلوں کے استعمال سے مندرجہ بالا ضروریات بھی پوری ہوجاتی ہیں، اور یہ کڈنی کو غذا فلٹر کرنے اور غذا کو ہارمون میں تبدیل کرنے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔ بلیو بیریز نیوٹریشن اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور بلیو بیریز نہ صرف کڈنی بلکہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے لیے بھی مفید ہیں۔ سرخ انگور وٹامن سی اور دیگرنیوٹریشن سے بھرپور سرخ انگور بھی کڈنی سمیت ذیابیطس اور دل کے امراض کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ مولی مولی کا شمار بھی ایسی غذا میں ہوتا ہے، جس میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی مقدار کم اور وٹامن سی زیادہ ہوتا ہے، جس وجہ سے یہ نظام ہاضمہ سمیت کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

پائن ایپل فائبر اور وٹامن بی سے بھرپور پائن ایپل نہ صرف کڈنی بلکہ بلڈ پریشر کے لیے بھی مفید ہیں۔ مشروم وٹامن بی اور قدرتی پروٹین سے بھرپور مشرومز بھی کڈنی کے امراض کو پیدا ہونے سے روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…