منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قصور میں زنیب قتل کیس کے بعد صوبے بھر میں اچانک جنسی زیاتی کیسز میں اضافہ ہو گیا

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

پشاور ( آن لائن)قصور میں زنیب قتل کیس کے بعد صوبے بھر میں اچانک جنسی زیاتی کیسز میں اضافہ ہو گیا ہے خواجہ سراؤں پر فائرنگ ، ان کے گھروں کو نذر آتش کرنے ، کوہاٹ میں میڈیکل کالج کی لڑکی کو قتل کرنے ، ابیٹ آباد میں گھریلو ملازم کو قتل کرنے ، چارسدہ میں لڑکی کو برہنہ کرنے ، ڈیرہ اسماعیل خان کو برہنہ کرنے ، مردان میں بچی کو قتل کرنے سمیت دیگر کیسز کے اچانک سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا میں تیزی سے گردش کرنے لگی ہیں جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹسز بھی لئے جا چکے ہیں ۔

جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے بھی ان کیسز کا نوٹس لیا ہے جبکہ سابق دور میں گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول نمبر 3میں بچوں کے ساتھ جنسی مبینہ سکینڈل بھی سامنے آیا تھا ۔ اور تحقیقات کے بعداس میں ملوث عملے کے خلاف کاروائی بھی کی گئی تھی ۔ ان کیسز کے تیز ہونے پر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جارہاہے بعض نفسیاتی ڈاکٹروں ، قانونی ماہرین ، پولیس تفتیشی افسران کے موقف کے مطابق اچانک ایسے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اورمیڈیا پر ایک طوفان سے اٹھا ہوا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت یا خیبر پختونخوا پولیس کو بدنام کرنے کی کو ئی سازش ہو رہی ہے ۔ مشعال خان قتل کیس سمیت دیگر کیسز کے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر آنے کے بعد خواتین میں خوف و ہراس بھی پھیل چکا ہے ۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اس سے قبل پشاو ریونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ میں طالبہ کو حراساں کرنے جبکہ بعض محکموں میں کلریکل سٹاف کی جانب سے خواتین کو حراساں کرنے کی شکایات بھی موصول ہو ئی تھی ۔ جس پر بعض محکموں کے کلیریکل سٹاف کو تبدیل کر کے ان کے خلاف کاروائی بھی کی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…