منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کینسر کیخلاف جنگ میں سائنسدانوں کو بڑی کامیابی حاصل،نئی دوا چوہوں کے جسموں میں ڈالی تو کیا تبدیلی آئی،میڈیکل سائنس میں بڑا انقلاب برپا

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کینسر کا شمار ان بیماریوں میں ہوتا ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں اموات کا سبب بنتا ہے ،کینسر کی روک تھام کیلئے اب تک کوئی ویکیسین بھی تیار نہیں ہوسکی لیکن اب خوشی کی خبر یہ ہے کہ سائنسدانوں کو برسا برس کی محنت کے بعد  اس ضمن میں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ویب سائٹ Med.stanford.edu کے مطابق سٹینفرڈیونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کینسر کی ویکسین تیار کرنے کے لئے چوہوں پر

کامیاب تجربات کئے ہیں جو مستقبل قریب میں اس خطرناک بیماری کیلئے ویکسین کی ایجاد کا خواب پور اکر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے ان تجربات کے دوران 90 چوہوں میں کینسر کی رسولیوں کے ’’ٹی خلیات‘‘ کو متحرک کرکے بیماری کا خاتمہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان چوہوں کے جسموں میں دو اقسام کے ’’امیون سٹیمولیٹنگ ایجنٹس‘‘ کی معمولی مقدار داخل کی گئی تھی۔ سائنسدان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ مادہ داخل کرنے سے چوہوں کے جسموں سے کینسر کی رسولیوں کا تیزی سے خاتمہ ہونے لگا۔سٹینفرڈ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک کینسر کی مختلف اقسام کے لئے مﺅثر ہے، جن میں ایسی اقسام بھی شامل ہیں جو اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور تیزی کے ساتھ جسم میں پھیل جاتی ہیں۔ اس تکنیک کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اسے جسم کے محدود حصے پر استعمال کیا جاسکتاہے، جہاں یہ رسولیوں سے متاثرہ حصے پر اثرات مرتب کرتی ہے او رباقی جسم پر اس کے منفی اثرات نہیں ہوتے۔ کینسر کے علاج کے روایتی طریقوں میں پورے جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک کیا جاتا ہے جس کے سنگین سائیڈ ایفیکٹ دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات کینسر کا مرض تو قدرے کم ہو جاتا ہے لیکن مریض کئی اور سنگین مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ سائنسدان پرامید ہیں کہ کینسر کی نئی ویکسین اس خطرناک بیماری پر قابو پانے کا ناصرف موثر ذریعہ ثابت ہوگی بلکہ یہ موجودہ طریقہ علاج کی نسبت بہت سستی بھی ہوگی اور جلد مارکیٹ میں دستاب ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…