جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بس بہت ہو گیا، پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات اقوام متحدہ نے امریکہ اور افغانستان کو شٹ اپ کال دیدی

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی ) افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی، تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہو تی ، دہشتگردی سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے،افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے

پڑوسی ممالک، خصوصا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ ملاقات کی جس میں امریکی صدر نے افغانستان میں دہشگرد حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہنے کے بعد امریکہ افغان طالبان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی، تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوا کرتی۔ بقول ان کے، عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ اور یہ کہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، جس سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔یاماموتو نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سلامتی کونسل انسدادِ دہشت گردی کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے پڑوسی ممالک، خصوصا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں، عالمی ادارے کے ایلچی نے کہا کہ فروری میں کابل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے افغانستان میں اقوام متحدہ کا مشن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوگی اور خطے کے ممالک بشمول پاکستان اس میں شریک ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ طالبان کے

ساتھ بات چیت کے لیے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں امن عمل افغان قیادت میں ہونا چاہیئے کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں سب کی کوششیں شامل ہونی چاہئیں۔ باغیوں سے رابطے کی کوشش کی جائے اور حقیقی مذاکرات کے لیے ان کی بات سنی جائے۔بقول ایلچی، طالبان جب بھی مذاکرات کی میز پر آئیں یہ عمل کھلے عام نہیں ہونا چاہیئے۔

افغانستان میں پائیدار امن کے لیے کوششوں میں خطے کے مفادات بھی شامل ہونے چاہئیں، جس کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مخلصانہ بات چیت ہونی چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…