یاسر عرفات 35 برس تک تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے سربراہ رہے۔ 1996 میں فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 2004ء میں شدید بیمار پڑ گئے۔ دو ہفتے بعد انہیں فرانس کے ایک فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں وہ 11 نومبر 2004ء کو 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔یاسر عرفات کی موت کے وقت بھی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ان کی موت طبعی نہیں تھی۔فلسطین کے حکام کا کہنا ہے کہ سابق فلسطینی رہنماء یاسر عرفات کی ہلاکت کے بارے میں سائنسی رپورٹوں سے ظاہر ہے کہ وہ طبعی موت نہیں مرے۔یاسر عرفات کی موت کی تحقیقاتی کمیٹی کے رکن توفیق تیراوی نے کہا ہے کہ ان کی ہلاکت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری رہیں گی۔سوئٹزرلینڈ کے فورنسک ماہرین نے رواں ہفتے ہی تصدیق کی ہے کہ یاسر عرفات کے جسم میں تابکار مادے پلونیم کی کافی زیادہ مقدار ملی ہے۔تاہم انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات حتمی نہیں ہے کہ 2004ء میں ان کی ہلاکت اسی مادے کی وجہ سے ہوئی۔واضح رہے کہ یاسر عرفات کی وفات کی سرکاری رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ان کی موت طبعی تھی۔یاسر عرفات کی بیوہ سوہا عرفات نے اس خدشے کو دہرایا تھا کہ یاسر عرفات کو قتل کیا گیا ہے اور اب یہ رپورٹ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ براہ راست کسی کو نامزد نہیں کر سکتیں کیونکہ دنیا بھر میں ان کے کئی دشمن تھے۔
عرفات کی ہلاکت: سوئس انکشافات
یاسر عرفات کے لباس‘ رومال اور ٹوتھ برش میں پلونیم 210 کی ناقابل توجیہہ زیادہ مقدارپائی گئی۔ٹوتھ برش میں 54 یونٹ‘ انڈرویئر میں 180 یونٹ‘ جب کہ ایک عام آدمی کے انڈرویئر میں 6.7 یونٹ پلونیم پایا گیا۔ساٹھ فیصد سے زیادہ پلونیم قدرتی ذرائع سے نہیں آیا۔
سوئس رپورٹ کے مطابق یاسر عرفات کے جسم میں پلونیم ذرّات کی مقدار معمول سے 18 گنا زیادہ تھی۔ یہ رپورٹ گزشتہ دنوں’’ الجزیرہ‘‘ نے نشر کی تھی۔الجزیرہ ٹیلی ویژن نے 2012ء میں اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پیرس کے ہسپتال میں یاسر عرفات کے زیر استعمال برتنوں میں پلونیم زہر کے اثرات پائے گئے ہیں اور فرانسیسی حکام نے زہر آلود برتن فلسطینی رہنما ء کی بیوہ کے حوالے کیے تھے۔
فرانس نے 2012ء میں یاسر عرفات کی بیوہ کی درخواست پر انکوائری کا آغاز کیا تھا جس کے بعد فرانسیسی‘ سوئس اور روسی فورنسک ماہرین نے رام اللہ میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کی تھی۔یاسر عرفات کی موت کے وقت خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ان کی موت قدرتی نہیں تھی اور کئی لوگوں نے اسرائیل پر انگلی بھی اٹھائی جس نے عرفات کو اڑھائی برس تک رام اللہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔اسرائیل نے یاسر عرفات کو ہلاک کرنے کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ۔ اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ 75سالہ عرفات نے غیر صحت مندانہ طرز زندگی اپنا رکھا تھا۔اسرائیل کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے سوئس رپورٹ پر ریمارکس دیئے تھے کہ’’ یہ رپورٹ سائنس نہیں بلکہ محض ایک ڈرامہ ہے‘‘۔
2004ء: یاسر عرفات کی قبر کشائی ۔۔۔
فورنسک ماہرین نے 2004 میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کی تھی۔ماہرین نے یاسر عرفات کے میڈیکل ریکارڈز‘ ان کی لاش سے لیے گئے نمونوں اور ہسپتال میں ان کے زیر استعمال اشیا کا معائنہ کرکے رپورٹ دی کہ ’’ پلونیم کی غیر معمولی مقدار سے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ فلسطینی رہنماء کو زہر دیا گیا تھا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ حتمی نتیجے پر اس لیے نہیں پہنچ سکے کہ ایک تو یاسر عرفات کی موت کو وقت بہت گزر گیا تھا اور دوسرے نمونے محدود تعداد میں دستیاب تھے۔ یاسر عرفات کی بیوہ سوئٹزرلینڈ کے فورنسک ماہرین سے ملاقات کی جس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ’’میں ایک سیاسی قتل کے جرم سے پردہ اٹھا رہی ہوں‘‘۔
فلسطینی سمجھتے ہیں کہ ان کے رہنماء کو زہر دے کر قتل کیا گیا۔۔۔
یاسر عرفات مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں مقاطہ محل کے احاطے میں ایک سنگی مقبرے میں دفن ہیں۔ سوئس ماہرین نے ان کے سامان میں تابکار مادے پلونیم 210 کی موجودگی کا سراغ لگایا تھا۔ اس کے بعد فرانس نے اسی سال اگست میں ان کے قتل کی تحقیقات شروع کر دی تھیں۔یاسر عرفات کے میڈیکل ریکارڈ میں لکھا ہوا ہے کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ان کی بیوہ نے اس وقت پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا تھا تاہم فلسطینی اتھارٹی سے کہا تھا کہ وہ قبرکشائی کی اجازت دیں تاکہ حقیقت کا پتا چلایا جا سکے۔یاسر عرفات کی موت کی تفتیش کرنے والی فلسطینی کمیٹی کے سربراہ توفیق تیراوی نے کہا ہے کہ قبرکشائی کے وقت میڈیا کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نعش کو قبر سے نکالنے کے بعد سائنس دان نمونے حاصل کر کے لے جائیں اور ان کے اندر پلونیم 210 اور دوسرے زہریلے مادوں کا پتا چلانے کی کوشش کریں۔بہت سے فلسطینی یہ سمجھتے ہیں کہ یاسر عرفات کو اسرائیل نے زہر دے کر ہلاک کر دیا تھا۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ یاسر عرفات امن کے راستے میں رکاوٹ ہیں اور اسی لئے انہیں گھر میں نظر بند کرکے رکھا گیا تھا۔
یاسر عرفات کون؟
یاسر عرفات نے سیاسی زندگی کا آغاز گوریلہ جنگجو کی حیثیت سے کیا۔ چالیس سال سے زیادہ جلا وطنی کے بعد وہ 1994ء میں واپس فلسطین پہنچے تھے جب انہوں نے اسرائیل سے ایک امن سمجھوتا کیا جس کے تحت فلسطین نیشنل اتھارٹی قائم ہوئی۔یاسر عرفات چوبیس اگست 1929 ء کو پیدا ہوئے۔ یاسر عرفات کے مطابق وہ یروشلم میں پیدا ہوئے لیکن کچھ اطلاعات کے مطابق وہ مصر کے شہر قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ یاسر عرفات کے تمام بہن بھائی بھی قاہرہ میں رہے اور وہیں وفات پائی۔ یاسر عرفات نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔یاسر عرفات نے اپنی جدوجہد کا آغاز 1956 ء میں فتح تحریک شروع کر کے کیا۔ انہوں نے 1966ء پی ایل او کی باگ ڈور سنبھالی۔یاسر عرفات نے اپنی جوانی فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے گزاری اور زندگی کے آخری حصے میں شادی کی۔یاسر عرفات کی اکلوتی اولاد ان کی نو سالہ بیٹی ہے جو 1996 میں فرانس میں پیدا ہوئیں۔ وہ اب بھی اپنی ماں کے ساتھ فرانس میں مقیم ہے۔ یاسر عرفات نے 1974ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک گوریلا جنگجو کی وردی پہن کر تاریخی خطاب کیا۔یاسر عرفات نے اپنی جدوجہد کے دوران کویت‘ تیونس ‘لبنان کے علاوہ کئی ملکوں میں قیام کیا۔یاسر عرفات نے ساری زندگی خطرات سے کھیلتے ہوئے گزاری اور جب 1982ء میں اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو اس وقت وہ بیروت میں موجود تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیروت میں روس کے سفارت خانے میں گھس کر جان بچائی۔یاسر عرفات پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔ اسرائیل نے تیونس میں پی ایل او کے ہیڈکواٹرز پر حملہ کیا لیکن یاسر عرفات اس حملے میں محفوظ رہے۔یاسر عرفات تیس سال سے زیاد ہ عرصہ تک گوریلا کارروائیوں کے ذریعے فلسطین کو آزاد کروانے میں ناکامی کے بعد مسئلہ فلسطین کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی طرف راغب ہوئے اور 1985ء مصر کے شہر قاہرہ میں اعلان کیا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے علاوہ کہیں بھی پر تشدد کارروائی نہیں کریں گے۔اردن کی حکومت نے 1986 ء میں عمان میں ان کے دفاتر کو بند کر دیا۔ 1988ء میں امریکہ نے فلسطینی رہنما ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے سے روکنے کے لیے ان کو امریکہ کا ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔بعد میں انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔یاسر عرفات نے 1988ء میں امریکی یہودیوں کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے وجود کو ماننے کا اعلان کیا۔نوے کی دہائی میں یاسر عرفات کو امن کے کئی انعامات سے نوازا گیا۔ یاسر عرفات کو اسرائیلی وزیر اعظم رابن اور وزیر خارجہ شمعون پیریز کے ساتھ مشترکہ نوبل کا امن انعام دیا گیا۔جنوبی افریقہ کے رہنماء نیلسن منڈیلا نے بھی فلسطینی رہنما ء کو کیپ ہوپ انعام سے نوازا۔فلسطینی رہنما ء نے 1998 ء میں سہ فریقی کانفرنس میں شرکت کی جس میں اسرائیل اور امریکہ نے شرکت کی۔اسی سال انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ تاہم ایریل شیرون کے اسرائیل کے وزیر اعظم بننے کے بعد فلسطین کیساتھ امن کا عمل رک گیا ۔یاسر عرفات 2004ء میں پیرس کے ایک ہسپتال میں دم توڑا۔
یاسر عرفات تشہیر کے شوقین اور محنتی شخص تھے
ناقدین کا کہنا تھا یاسر عرفات ’اپنی تشہیر کے شوقین‘ اور انتہائی محنتی تھے۔ ان میں عوام کی رہنمائی کرنے اور اپنی مرضی کرنے کی خواہش بھی روز بروز زور پکڑتی جا رہی تھی۔1959ء میں جب کویت میں ملک بدر کی زندگی گزارنے والے فلسطینی الفتح تنظیم تشکیل دے رہے تھے جو بعد فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی شکل میں سامنے آئی‘ اس وقت یاسر عرفات محض سطحی طور پر ہی مشترکہ اقتدار کی بات کر رہے تھے لیکن صرف دو برس کے عرصے میں ہی ان کے ہم عصروں پر یہ بات عیاں ہونے لگی کہ یاسر عرفات نے کس طرح نہ صرف الفتح کے عسکری پہلوؤں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا بلکہ دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔اس تمام واقعات سے قطع نظر یاسر عرفات نے فلسطین کے معاملے کو عالمی ایجنڈے میں کسی بھی دوسرے رہنما ء کے مقابلے میں سب سے زیادہ آگے بڑھایا۔عرب ریاستیں واضح طور پر فلسطینیوں کی مدد کرنے کو تیار نہ تھیں اس لیے پی ایل او نے یاسر عرفات کے زیر قیادت ہتھیار تھام لیے۔ ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا اور دیگر پْرتشدد کاررواؤں کا آغاز کیا۔بحیثیت فوجی سربراہ یاسر عرفات نے متعدد مواقع پر اسرائیل کے خلاف لڑائی میں بھی قیادت کی۔ 1968 ء میں کرامہ‘ ستمبر 1970ء میں اردن اور 1982ء میں بیروت میں گھیرے میں ہونے کے باوجود یاسر عرفات نے اسرائیل کے خلاف بھرپور جرات کا مظاہرہ کیا۔ان کا ہمیشہ یہی مقصد رہا ہے کہ فلسطین کو آزادی دلوائی جائے اور وہ خود فلسطین کے صدر بنیں۔فلسطینیوں پر یاسر عرفات کے مکمل کنٹرول کو اس وقت چیلنج کا سامنا ہوا‘ جب پی ایل او کے رکن محمود عباس المعروف ابو ماذن کو فلسطین کا وزیراعظم نامزد کیا گیا۔فلسطینی انتظامیہ میں داخلی اصلاحات کے لیے ڈالے گئے دباؤ کے نتیجے میں ابو ماذن کو مئی سن دو ہزار تین میں فلسطین کا وزیراعظم مقرر کر دیا گیا۔فلسطین کے وزیراعظم اور پی ایل او کے سیکرٹری جنرل ہونے کے علاوہ محمود عباس یاسر عرفات کے بعد سب سے زیادہ سینئر فلسطینی رہنما ء تھے ‘اس حوالے سے ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔بش انتظامیہ نے یاسر عرفات پر یہ الزام لگا کر کہ ان کا دامن ’دہشتگردی سے داغدار‘ ہے ابو ماذن کی حمایت کی اور بظاہر یہ بھی دکھائی دینے لگا کہ اسرائیل ابو ماذن سے بات چیت کرنے کو تیار ہے۔تاہم یاسر عرفات نے ابو ماذن کی بحیثیت وزیراعظم حمایت نہ کی۔ ساتھ ہی فلسطینی صدر کی جانب سے حماس اور اسلامی جہاد جیسی شدت پسند تنظیموں کے خاتمے کے سلسلے میں ابو ماذن کی مکمل حمایت نہ کر پانے کے باعث یاسر عرفات اور ابو ماذن کے درمیان فلسطینی سکیورٹی کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔اقتدار کی دوڑ میں یاسر عرفات کو کامیابی حاصل ہوئی اور وہ ابو ماذن کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد فلسطینی وزیراعظم نے ستمبر کے اوائل میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
یاسر عرفات۔قتل یا طبعی موت؟ حقیقت کیا ہے؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































