جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بھارتی شرپسندوں نے کشمیری مظاہرین پر دھاوا بول دیا

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

لندن(آن لائن)برطانوی دارالحکومت میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مقبوضہ کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے لیے احتجاجی مظاہرے پر بھارتی شرپسندوں نے دھاوا بول دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی دارالامرا کے رکن لارڈ نذیر کی قیادت میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا اور یوم سیاہ منایا گیا جس میں سیکڑوں کشمیریوں اور سکھوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر اور مشرقی پنجاب میں بھارتی مظالم کی

مذمت اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔اس مظاہرے کا اہتمام بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔ احتجاج میں شریک سکھ مظاہرین نے خالصتان کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر بھارتی شرپسند بھی جمع ہوگئے جنہوں نے ہاتھوں میں بھارت کے قوم پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔انہوں نے کشمیری مظاہرین پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں ان کے درمیان ہاتھا پائی اور تلخ کلامی ہوئی۔ تاہم پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر صورت حال کو کنٹرول کیا۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔برطانیہ میں برٹش فرینڈز آف کشمیر کی جانب سے فری کشمیر(آزادی کشمیر) کی مہم شروع کی ہے جس کا نعرہ ہے بھارت کشمیر چھوڑ دو۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لارڈ نذیر نے کہا کہ بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جارہا ہے، نہ صرف کشمیر بلکہ خالصتان، ناگا لینڈ، مانی پور میں بھی بھارتی حکومت ظلم و ستم کررہی ہے اور ان خطوں میں بھی آزادی کی تحریکیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے برطانیہ میں کشمیر کی آزادی کی مہم روکنے کے لیے برطانوی حکومت، اشتہاری ایجنسیوں اور سرکاری محکمہ ٹرانسپورٹ پر بھی دبا ڈالا تاہم ہم کسی دبا کو خاطر میں نہیں لائیں گے اور مہم جاری رکھی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…