جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سات پہاڑیوں کا شہر

datetime 8  مئی‬‮  2016 |

استنبول خوبصورتی‘تاریخ‘تہذیب‘ ثقافت‘ سیاحت اور اقتصادی لحاظ سے دنیا کے انمول موتی کی حیثیت رکھنے والا شہر ہے۔ آبنائے باسفورس کے دونوں دہانوں پر پھیلا ہوا دنیا کا یہ واحد شہر ہے جو دو براعظموں کے سنگم پر واقع ہے۔یہ شہر جو تین عظیم سلطنتوں سلطنتِ روم‘بازنطینی سلطنت اورسلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا ہے۔ 1923ء میں جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد دارالحکومت استنبول سے انقرہ منتقل کردیا گیا۔ اس شہر کو 2010ء میں یورپ کا ثقافتی دارالحکومت بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

bluemosque

تاریخ میں اس شہر نے مکینوں کی ثقافت‘ زبان اور مذہب کے اعتبار سے کئی نام بدلے جن میں سے بازنطین‘ قسطنطنیہ ‘ اسلامبول اور استنبول اب بھی جانے جاتے ہیں۔ جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد سرکاری طور پر اس کا نام تبدیل کرکے ’’استنبول‘‘ رکھ دیا گیا۔ اس شہر کو ’’سات پہاڑیوں کا شہر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔یہ شہر تاریخی شاہکاروں سے اٹا پڑا ہے۔ یہاں پر اتنی بڑی تعداد میں تاریخی شاہکار موجود ہیں کہ شہر میں میٹرو کی کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں نوادرات برآمد ہوئے۔ ان نوادرات کی وجہ سے کئی بار میٹرو کی کھدائی کو بھی روکنا پڑااور کئی بار اس کا رخ بھی تبدیل کرنا پڑا۔1453ء میں سلطان محمد فاتح نے اس شہر کو فتح کرنے کے بعد اسے سلطنتِ عثمانیہ کا چوتھا دارالحکومت بنایا گیا اور یہاں پر موجود آیا صوفیہ کلیسا کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا اوریوں پورے علاقے پر اسلام کی مہر ثبت کردی گئی۔ سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں تعمیر کئے جانے والے شاہکاروں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس بارے میں مختصراً معلومات فراہم کرنے کیلئے بھی کئی ایک صفحات چاہئیں۔ جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد اس شہر کی طرف زیادہ توجہ نہ دی گئی بلکہ اس شہر کو ابتدا میں نظر انداز کردیا گیا۔استنبول کی بڑھتی ہوئی آبادی اور شہر کے باسفورس کے دونوں خطوں پرآباد ہونے کی بنا پر ان دونوں خطوں کے درمیان تیز ترین رابطے کی غرض سے 1974ء میں آبنائے استنبول پر پہلا معلق پل تعمیر کیا گیا اور پھر ترگت اوزال کے دور میں سلطان محمد فاتح کے نام سے ایک اور پل تعمیر کیا گیا لیکن اس کے باوجود استنبول کی ٹریفک پر قابو نہ پایا جاسکا جبکہ موجودہ حکومت نے زیر سمندر ٹرین اور عام گاڑیوں کیلئے پل تعمیر کرتے ہوئے استنبول کی ٹریفک پر کافی حد تک قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ حکومت کا اصلی ہدف 2020ء تک اولمپک مقابلوں سے قبل ٹریفک پر مکمل طور پر قابو پانے کا پلان بنایا تھا لیکن ارجنٹائن میں عالمی اولمپک کمیٹی کے اجلاس میں استنبول آخری مرحلے میں ٹوکیو سے شکست کھانے کے بعد اس ریس سے باہر ہو چکا ہے۔

1509.imgcache
استنبول شہر نے سب سے پہلے2000ء میں اولمپک مقابلے کروانے کے لئے رجوع کیا تھا لیکن اس وقت پہلے ہی مرحلے میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ استنبول اِس وقت تک پانچویں بار اولمپک مقابلوں کیلئے رجوع کرچکا ہے لیکن استنبول اس بار اولمپک مقابلے کروانے کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے جتنا قریب پہنچ چکا تھا اس سے پہلے کبھی بھی نہیں پہنچا تھا۔ حکومتِ ترکی‘ اس کے وزراء اور وزیراعظم نے اپنی تمام تررعنایاں استنبول میں 2020 ء میں اولمپک مقابلے کروانے کے لئے صرف کردی ہیں۔ وزیراعظم ایردوان جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد سولہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ارجنٹائن پہنچے تھے اور انہوں نے بغیر آرام کئے سب سے پہلے استنبول سے متعلق پریذنٹیشن پیش کرتے ہوئے استنبول کی میزبانی کی مہم کو بام عروج تک پہنچایا۔ انہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’میں بچپن ہی سے کھیلوں میں دلچسپی لیتا چلا آرہا ہوں۔ امیچور فٹبال کے کھلاڑی کے طور پر سولہ سال تک فٹبال کھیلتا رہا ہوں۔ میں آپ سے دل کی زبان سے مخاطب ہوں جو پوری دنیا کی مشترکہ زبان ہے۔ میری جانب سے آپ سب کو سلام پہنچے۔ سلام پہنچنانے کا مقصد آپ کی سلامتی اور امن کی تمنا کرنا ہے۔ اگر استنبول میں 2020ء میں اولمپک مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں تو مجھے یقین ہے دنیا میں ترکی اور استنبول کے بارے میں نظریات اور سوچ میں بڑی واضح تبدیلی دیکھی جائے گی‘‘۔

96_big

انہوں نے کہا کہ استنبول مختلف نسلوں‘ مذاہب اور تہذیبوں کو ایک ایسا گہوارہ ہے جو دو مختلف براعظموں میں امن کے روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔یہ اولمپک مقابلے پہلی بار کسی اسلامی ملک میں منعقد ہوں گے جس سے پوری دنیا میں مذہب اسلام کے بارے میں تنگ نظری کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ’’ ترکی اس سے قبل عالمی سطح پر کئی ایک مقابلے منعقد کرواچکا ہے جس میں بحرہ روم اولمپک مقابلے جو یونان کے اقتصادی بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے اٹھارہ ماہ کے اندر اندر کروانے تھے کا بھی ہدف حاصل کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کے شہروں ارضِ روم‘ ترابزون اور مرسین میں عالمی سطح کے مقابلے بڑی کامیابی سے منعقد کرواچکا ہے‘‘۔ وزیراعظم ایردوان نے پینتالیس منٹ تک استنبول سے متعلق اپنی پریذنٹیشن پیش کی جسے سب نے بیحد سراہا۔ ارجنٹائن میں عالمی اولمپک کمیٹی کے اجلاس میں آخری مرحلے میں تین شہر میڈرڈ‘ استنبول اور ٹوکیو رہ گئے تھے۔ بیونس آئرس میں ہونے والے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ٹوکیو کو 42 ووٹ جبکہ استنبول اور میڈرڈ کو 26‘ 26 ووٹ ملے تھے اور یوں ٹائی اپ ہوگیا جس پر استنبول اور میڈرڈ کے درمیان دوبارہ سے ووٹنگ کروائی گئی اوراس مرحلے میں استنبول نے 45 کے مقابلے میں 49 ووٹ حاصل کرتے ہوئے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اور جب فائنل میں استنبول اور ٹوکیو کے درمیان ووٹنگ ہو رہی تھی تو پورے ترکی میں لوگوں نے سانسیں روک کر ہیجان خیز کیفیت میں استنبول کیلئے دعا کی لیکن یہ معرکہ ٹوکیو نے 36 کے مقابلے میں 60 ووٹوں کی واضح برتری سے سرکرلیا اور استنبول جو پہلی بار اولمپک مقابلے کروانے کے اتنا قریب پہنچ چکا تھا کو شدید دھچکا لگا ۔

250px-Istanbul_from_above
استنبول کو اس بار اولمپک مقابلوں کی میزبانی کا شرف شاید اسلئے حاصل نہیں ہوسکا کہ کئی ایک ممالک نے خفیہ طور پر ترکی کے خلاف مہم کا آغاز کررکھا تھا۔ ان ممالک نے ترکی پر متحدہ امریکہ کے ساتھ مل کر شام کے خلاف جنگ شروع کرنے کا واویلا مچایا تھا جس سے غیر جانبدار ممالک بھی متاثر ہوئے۔ علاوہ ازیں ترکی کے اندر ہی سے کئی ایک عناصر ایسے بھی تھے جو اپنے ملک کی عظمت اور شان و شوکت کا احساس کئے بغیر استنبول میں ہونے والے گیزی پارک کے واقعے کو اچھال رہے تھے اور ترکی کے بائیں بازو کے اخبارات نے اس سلسلے میں مختلف طریقوں سے خبریں اور کالم بھی شائع کئے جن کا اصل مقصد اس اعزاز کو وزیراعظم ایردوان کو لینے سے محروم رکھنا تھا۔ ویسے بھی نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق ترکی کو خطے میں عدم استحکام اور وزیراعظم ایردون کے آٹو کریٹک روئیے کی وجہ سے استنبول کو اولمپک مقابلوں کی میزبانی کے شرف سے محروم رکھا گیا ہے۔ ترکی نے استنبول شہر کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کی مہم کے دوران کسی قسم کا منفی رویہ نہ اپنایا تھا اور نہ ہی استنبول کے مقابل شہر پر کسی قسم کا کوئی الزام لگایا تھا جبکہ جاپان نے ڈوپنگ کے فیکٹر کو اپنی مہم کو حصہ بناتے ہوئے با لواسطہ طور پر ترکی کو نشانہ بنایا تھا تاہم فائنل میں عالمی اولمپک کمیٹی کے سربراہ جیک روگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’یہ مقابلہ بڑا منصفانہ ہوا ہے اور ہم ٹوکیو کو مبارکباد پیش کرتے ہیں‘‘۔

get-3-2013-f2n15xg7

اب دیکھنا یہ ہے کہ استنبول کب اولمپک مقابلے منعقد کروانے کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے؟شاید استنبول کو 2024ء میں اولمپک مقابلے منعقد کروانے کی میزبانی کا شرف دیدیا جائے گا کیونکہ اس وقت تک ترکی دنیا بھر میں اپنی ترقی اور عظمت کے لحاظ سے کئی عظیم قوتوں کو اپنے پیچھے چھوڑ چکا ہوگا اور ویسے بھی 2023ء جمہوریہ ترکی کے قیام کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر یہ ترکی کیلئے ایک عظیم تحفہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…