بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

رانا ثنا نے جس طرح میری معصوم مقتولہ بچی کا میڈیا پر مذاق اڑایا اس سے پتہ چلتا ہے کہ۔۔زینب کے غمزدہ والد پھٹ پڑے، آرمی چیف سے ایک بار پھر مدد طلب کر لی

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

قصور(این این آئی)قصورمیں جنسی تشددکے بعد قتل ہونے والی زینب کے والدحاجی محمدامین ا نصاری نے کہاہے کہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ سے اپنی بیٹی کے کیس میں انصاف کے حصول کا مطالبہ کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے اسلئے ہم نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ سے اپنی بیٹی

کے کیس میں انصاف کے حصول اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیاہے ‘پولیس اگر اتنی فرض شناس ہوتی تو ہماری بیٹی کیساتھ آنے والے المناک واقعہ سے پہلے زیادتی کی مرتکب معصوم جانو ں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دی جاچکی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اپنی بیٹی کیساتھ ہونیوالے سانحہ پر آنسو بہارہے ہیں پوری قوم کا ہماری بیٹی کیساتھ ہونیوالے المناک سانحہ پر ملزم کی گرفتاری کیلئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر میں پوری قوم کا شکرگزارہوں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا کام ہوتاہے کہ وہ مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھ کر ان کو حوصلہ دیتے ہیں تاہم صوبائی وزیر قانون نے ہمارے ساتھ آنے والے واقعہ کا جس طریقے سے میڈیا پر مذاق اڑایا اس سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ غریب کی بیٹی کی عزت کی اس ملک میں کوئی قیمت نہیں ہے۔واضح رہے کہ ننھی زینب کے قتل کو کئی دن گزر جانے کے باوجود حکومت سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس کے قاتل کو گرفتار نہیں کر سکی ہے جبکہ غمزدہ خاندان نہ پنجاب پولیس بلکہ حکمرانوں کے رویوں پر بھی شاکی نظر آتا ہے۔ اس سے قبل بھی زینب کے والد  پنجاب پولیس پر اپنے تحفظات کا اظہارکر چکے ہیں۔ زینب قتل کیس میں قصور پولیس کی نا اہلی، نا لائقی اور رشوت ستانی کی شکایت بھی کھل کر منظر عام پر آچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…