جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

القدس بارے ٹرمپ کا اعلان اس صدی کا طمانچہ ہے،فلسطینی صدر

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطی میں امن کوششوں کو اس صدی کا طمانچہ قرار دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فلسطینی رہنماؤں سے ایک ملاقات میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ امریکی کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد ان کی جانب سے کسی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔انھوں نے اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا

کہ وہ اوسلو سمجھوتے کو بھی ختم کر رہا ہے جس کے تحت 1995 سے امن عمل شروع ہوا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات معطل کرنے کے صورت میں فلسطینی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔فلسطینی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرکے امریکہ ایک غیر جانب مذاکرات کار نہیں بن سکتا۔فلسطینی رہنماؤں نے رملہ میں دو دن ملاقات کی اور اس کے بعد صدر ٹرمپ کے اقدام کا جواب دیا۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے امریکی فیصلے پر مذمت کے حوالے سے رائیشماری کے بعد محمود عباس پہلے ہی اس ماہ کے اوائل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو مسترد کر چکے ہیں۔رملہ میں دیگر فلسطینی رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’اس صدی کا یہ معاہدہ در اصل اس صدی کا طمانچہ ہے جسے ہم قبول نہیں کریں گے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ کوئی اوسلو (سمجھوتہ) نہیں رہا، اسرائیل نے اسے ختم کر دیا ہے۔واشنگٹن کچھ ماہ سے ایک امن معاہدے کا مسودہ تیار کر رہا ہے لیکن اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ محمود عباس نے بتایا کہ انہیں یروشلم سے باہر ایک گاؤں ابو دیس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی پیش کش کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…