منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

لمبی زندگی کا انتہائی منفرد راز سامنے آگیا، 147سال کی عمر پانےوالا سعودی شخص جس نے پوری زندگی یہ ایک کام نہ کیا جس کا پاکستانیوں کو بے حد شوق ہے

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ ہفتے طویل العمر سعودی شہری شیخ العلقمی جن کی عمر 147برس تھی کے انتقال کی خبر سعودی میڈیا پر نمایاں طور پر نشر اور شائع کی گئی۔ شیخ العلقمی کا تعلق سعودی عرب کے صوبہ ابہا سے تھا ۔ ان کی لمبی عمر کے راز سے متعلق سعودی گزٹ میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق شیخ العقمی ساری عمر اپنے کھیتوں سے حاصل ہونے والی خالص

اور ساسدہ غذا کھاتے رہے اور بازاری کھانے کے کبی قریب نہ گئے۔ وفات سے چند سال قبل ایک اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں عمر رسیدہ شخص نےاپنے طرز زندگی کے حوالے سے حیران کن باتیں بتائی تھیں۔انٹرویو میں علی بن محمد نے بتایا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی اسپتال میں داخل نہیں ہوا کیونکہ وہ اپنے گھر میں ہی سبزیاں اور پھل اگا کر کھاتا ہے اس کے علاوہ زندگی بھر چینی سے بننے والی غذائیں استعمال نہیں کیں۔ ایک اور عمل جو ان کی طویل صحت کا سبب بنا وہ ان کا روزانہ نمازِ عشاء کی ادائیگی کے بعد سونا اور فجر سے پہلے اٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کرنا تھا۔ علاوہ ازیں وہ زندگی بھر سیدھی کروٹ سوتے تھے۔علی بن محمد نے بتایا کہ اپنی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے آبائی علاقے میں 4 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے نماز جمعہ ادا کی تھی۔سعودی گزٹ کے مطابق شیخ العلقمی نے علی بن محمد بن عائد، عبداللہ بن محمد بن عائد اور حسن بن عائد کے ادوار بھی دیکھے۔ جب کنگ عبدالعزیز نے صوبہ عسیر کو سعودی عرب کا حصہ قرار دیا تو ان کی عمر 38 سال تھی۔ ان کے قریبی عزیز یحیٰی العقلمی نے بتایا کہ شیخ علی ہمیشہ اپنے کھیتوں میں اُگایا گیا اناج، گندم، مکئی، جو اور دیگر اشیاءکھاتے تھے جبکہ شہد کا باقاعدی سے استعمال ضرور کرتے تھے۔ گوشت بھی صرف وہی کھاتے تھے جو اپنے گھر میں پالے ہوئے جانوروں سے حاصل کیا جاتا تھا۔

باہر کہیں بھی جاتے تو کھانے پینے میں بہت احتیاط سے کام لیتے اور خصوصاً بازار کی اشیاءتو کبھی نہیں کھاتے تھے۔ وہ تمام عمر اچھی صحت کے مالک رہے اور کوئی سنگین بیماری لاحق نہیں ہوئی تاہم حال ہی میں جب انہیں دماغ کا فالج ہوا تو یہ جان لیوا ثابت ہوا اور وہ 147سال کی عمرمیں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…