ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قاتل نے لاش سڑک پر پھینکی تھی سڑک سے اُٹھاکر کوڑ ے کے ڈھیر پر کس نے پھینکا؟زینب قتل کیس میں اب تک کا سب سے افسوسناک انکشاف‎

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل کیس میں جہاں پولیس کی نالائقی اور نا اہلی سامنے آئی وہیں اب پولیس کی بے حسی اور زینب کی لاش کیساتھ انسانیت سوز سلوک کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر میں خود پولیس نے پھینکی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خفیہ ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ قتل کے بعد درندہ صف شخص نے زینب کیلاش تھانہ صدر قصور کی حدود میں واقع سڑک

کنارے پھینکی تھی، ننھی بچی کے اغوا کا شور مچنے پر تھانہ صدر قصور کے اہلکاروں نے زینب کیلاش اٹھا کر تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں واقع کچرے کے ڈھیر میں پھینک کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی۔ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی اس تمام کارروائی کا ثبوت مٹانے کیلئے پیروالا چوک میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی ضائع کر دی جبکہ دو کیمروں کی فوٹیج ضائع ہونے سے بچ گئی جسے حساس اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب نجی ٹی وی نیو نیوز کے پروگرام ’’پکار‘‘میں اینکر نے جب زینب کو ڈھونڈنے والے ایک لڑکے سے سوال کیا تو اس نے بھی اسی طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس جگہ کا چپہ چپہ چھان مارا مگر ہمیں وہاں زینب کی لاش نظر نہیں آئی ، یہ لاش وہاں بعد میں پھینکی گئی ہے اور اس نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ہم وہاں ڈھونڈ کر گئے تو اس کے کچھ دیر بعد لاش وہاں کہاں سے آگئی۔واضح رہے کہ زینب کی لاش آج سے تین روز قبل کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی اور اس وقت بھی اس وقت کے ڈی پی او نے لاش ملنے پر زینب کے چچا سے ڈھونڈنے والے کانسٹیبل کو 10ہزار انعام دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس روئیے کے خلاف قصور شہر میں مظاہرے اور پرتشدد احتجاج بھی ہو چکا ہے۔ زینب قتل کیس میں جہاں پولیس کی نالائقی اور نا اہلی سامنے آئی وہیں اب پولیس کی بے حسی اور زینب کی لاش کیساتھ انسانیت سوز سلوک کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…