جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے؟ سعودی عرب کے ظالمانہ اقدامات پر تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کی درخواست کر دی

datetime 4  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی حالت زارکے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس کی درخواست کردی ہے۔ تفصیلات خط کی شکل میں چیف جسٹس کو ارسال کی گئیں۔تفصیلات مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے بھجوائیں ۔

خط کے متن کے مطابق مراد سعید نے لکھا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانیشہریوں کے حقوق کا تحفظ بنیادی آئینی تقاضا ہے۔حکومت سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوتو سپریم کورٹ محاسبے کا اختیار رکھتی ہے۔سعودی عرب کے قید خانوں میں ہزاروں پاکستانی حکومتی عدم توجہی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔پاکستانی مزدوروں کی اجرت میں سے ظالمانہ کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔بھارتی حکومت اپنے محنت کشوں کے تحفظ کیلئے سعودی حکومت سے لیبر پروٹیکشن ایگریمنٹ کر چکی ہے۔انہوں نے لکھا کہ پاکستانی حکومت محنت کش پاکستانیوں کو قانونی معاونت تک فراہم کرنے کو تیار نہیں۔مختلف الزامات کی آڑ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سے وطن واپسی کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔حکومتی اہلیت کا عالم یہ ہے کہ وزارت خارجہ کو سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کی حقیقی تعداد تک کا علم نہیں۔چیف جسٹس سے التماس ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مداخلت کریں۔خط کو آئینی درخواست کا درجہ دیکر مفاد عامہ کی خاطر کارروائی کا آغاز کریں۔حکومت اور اسکے اداروں سے انکی کارکردگی سے متعلق تفصیلات طلب کی جائیں۔ روزگار کی تلاش میں دیار غیر میں محنت کرنے والے پاکستانی شہریوں کے سر پر ہاتھ رکھیں۔انہیں سنگین مصائب سے نکالنے کیلئے وفاقی حکومت کو فوری اور مؤثر احکامات صادر کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…