جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں دھماکہ خیز موڑ،بابر اعوان نے کمال کردکھایا،ایسا نکتہ سامنے لے آئے کہ جیت یقینی ہوگئی

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھادیا۔ منگل کو چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو اس دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھادیا۔بابر اعوان کا اپنے دلائل میں کہنا تھا

کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن ٹریبونل ہے نہ ہی عدالت، اس طرح کی درخواستیں سننے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں۔بابر اعوان کے مؤقف پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کے لیے قائم کیے جاتے ہیں البتہ آپ سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی بھجوائیں، ہم جائزہ لیں گے۔دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے تحریری اعتراضات الیکشن کمیشن میں جمع کرائے جس پر الیکشن کمیشن کے ممبر خیبرپختونخوا ارشاد قیصر نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی سے انٹرا پارٹی الیکشن کا رکارڈ مانگا تھا۔بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے شریف برادران کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ مشرف کے پاؤں پڑنے کے بعد انہیں این آر او ملا تاہم ہم اب کسی این آر او کو تسلیم نہیں کریں گے اور کوئی این آر او نہیں ملے گا، این آر او کے خلاف پوری قوم کو متحد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران جو دعویٰ کرتے تھے وہ مسلم امہ کے لیے جدہ گئے وہ آکر بتائیں مسلم امہ کیلئے کس سے ملے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…