جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جدید اورمحفوظ ترین ای پاسپورٹس کے اجرا کی تیاریاں مکمل

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)جعلسازی سے مکمل محفوظ ای پاسپورٹس کے اجرا کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، پہلے مرحلے میں سرکاری افسران اور سفارت کاروں کو ای پاسپورٹ جاری کئے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے مائیکرو چپ والے جدید ای پاسپورٹس کے اجرا کیلئے اقدامات کرلیے ہیں، اس سلسلے میں ابتدائی طور

پر سفارت کاروں اور سرکاری افسران کو ای پاسپورٹس جاری کیے جائیں گے، مذکورہ پاسپورٹس کو جعلسازی سے مکمل محفوظ رکھنے کیلئے مائیکرو چپ لگائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بلیو اورریڈ پاسپورٹس کے اجرا کا آغاز مارچ 2018 سے ہو گا جبکہ عام شہریوں کو ای پاسپورٹس کا اجرا دوسرے مرحلے میں کیا جائے گا۔سیکورٹی پرنٹنگ پریس سے بائیو میٹرک پاسپورٹس کی پہلی کھیپ اسلام آباد روانہ کردی گئی ہے، پہلے مرحلے میں 500آزمائشی ای پاسپورٹس جاری کئے جائیں گے۔ذرائع نے بتایاکہ ای پاسپورٹس میں نئے محفوظ ترین سیکورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں، سیکیورٹی فیچرز میں کاربوریٹڈ صفحات، ایک عام فوٹو اور ایک ڈاٹیڈ فوٹو بھی شامل ہے۔کاربوریٹڈ صفحات سے پاسپورٹس میں کسی بھی قسم کی جعلسازی ناممکن ہو گی، بائیو میٹرک پاسپورٹ پر لگی مائیکرو چپ میں پاسپورٹ ہولڈر کے تمام کوائف درج ہوں گے۔دس سالہ ای پاسپورٹ کی فیس جاری کردہ عام پاسپورٹ کے برابر ہوگی، مخصوص مدت کے بعد موجودہ کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹس مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔واضح رہے کہ کزشتہ ماہ کے وسط میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاتھا کہ شہریوں کو نئے سال 2018 کے وسط میں ای پاسپورٹ کا اجرا شرو ع کردیا جائے گا جس میں مائیکرو چپ لگی ہو گی، اس جدید پاسپورٹ کے اجرا سے جعلی کاغذات کے ذریعے بیرون ملک سفر کرنے والوں کا قلع قمع کیا جا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…