بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ایم کیوایم پاکستان کاسانحہ ماڈل ٹاؤن اے پی سی کے مشترکہ اعلامیے سے لاتعلقی کا اظہار، کس بات پر اعتراضات ہیں؟تفصیلات جاری کردیں

datetime 30  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے ہونے والی اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے بغیرسانحہ کی ذمہ داری کسی پرنہ ڈالی جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے طاہر القادری

کی اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے بغیر کسی پر بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جب کہ سابق وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلی پنجاب شہبازشریف اور وزیرقانون پنجاب راناثنااللہ کوسانحہکا ذمہ دار ٹھرانے پر بھی ایم کی ایم پاکستان نے اعتراض کیا۔لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹان کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس طلب کی تھی جس میں اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے شرکت کی تاہم مشترکہ اعلامیے میں اعتراضات پر ایم کیو ایم پاکستان اے پی سی کے اختتام سے قبل ہی واپس روانہ ہوگئی تھی۔واضح رہے سانحہ ماڈل ٹان پر بلائی گئی اے پی سی نے پنجاب حکومت کو 7 روز کی مہلت دیتے ہوئے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اورصوبائی وزیرقانون رانا ثنااللہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے ہونے والی اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے بغیرسانحہ کی ذمہ داری کسی پرنہ ڈالی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…