جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور ،پنجاب حکومت کے افسران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو بچانے کیلئے متحرک

datetime 30  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (آن لائن)پنجاب حکومت کے اعلی افسران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو بچانے کیلئے متحرک ہو گئے، ماڈل ٹاؤن جوڈیشل انکوائری سے منسلک شہباز شریف، رانا ثناء اللہ سمیت دیگر کے بیان حلفی، آڈیو ویڈو ریکارڈ غائب کر دیا گیا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرہ شہری قیصر اقبال کی طرف سے محکمہ داخلہ پنجاب کو مراسلہ لکھا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری سے منسلک وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، وزیر قانون رانا ثناء اللہ سمیت دیگر افسروں اور

اہلکاروں کے بیان حلفی اور آڈیو ویڈیو بیانات کا ریکارڈ فراہم کیا جائے لیکن محکمہ داخلہ پنجاب نے مراسلہ جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انکوائری سے منسلک کوئی بھی دستاویزات موجود نہیں ہیں جس کے بعد شہری نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو مراسلہ لکھا اور رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے بھی جوابی مراسلے میں یہ اعتراف کیا ہے کہ انکوائری سے منسلک کوئی بھی دستاویز ہائیکورٹ کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی عدالت عالیہ ایسی انکوائریوں سے منسلک دستاویزات کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی پابند ہے، پنجاب کی اعلی بیوروکریسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری سے منسلک بیان حلفی اور دیگر ریکارڈ غائب کر دیئے گئے ہیں تاکہ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کی مستقبل کی سیاست کو بچایا جا سکے، آئینی ماہر چودہدی شعیب سلیم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے بیان حلفی اس لئے غائب کئے گئے ہیں تاکہ ان دونوں کو نااہلی سے بچایا جا سکے کیونکہ بیان حلفی اور جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے مطابق جھوٹ بولنے کی بنیاد پر دونوں شخصیات آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہل ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کی نااہلی کے حوالے سے انہوں نے ایک آئینی درخواست بھی لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے، لگتا ہے کہ یقینی نااہلی سے بچنے کیلئے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے بیان حلفی اور ریکارڈ غائب کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…