منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

وزارت ہاؤسنگ کے افسران نے کروڑوں روپے کے42پلاٹ اپنے نام الاٹ کرالئے اورپھراربوں روپے میں یہ پلاٹ بیچ دئیے،دستاویزات میں چونکادینے والے انکشافات

datetime 24  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی تین سالوں سے وزارت ہاؤسنگ کے کروڑوں روپے کرپشن سکینڈل کی تحقیقات مکمل نہ کرسکا ہے، مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے ذیلی ادارہ فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی کرپٹ، بیورو کریسی نے اسلام آباد ہاؤسنگ سکیم فیز5 میں اضافی42پلاٹ بنا کر افسران کو الاٹ کردئیے تھے جس سے قومی خزانہ کو37 ملین سے زائد کا ہوا،الاٹ منٹ سے قبل متعلقہ حکام نے

سی ڈی اے سے نہ اجازت لی اور نہ ہی نئے بنائے گئے پلاٹوں کا نقشہ منظور کرایا۔ دستاویزات کے مطابق کیٹیگری ون میں13  پلاٹ، کیٹیگری2 میں2 پلاٹ، کیٹیگری تھری میں9 پلاٹ، کیٹیگری فور میں  8پلاٹ جبکہ کیٹیگری فائیو میں1 پلاٹ بنا کر افسران نے خود اپنے نام کرالئے تھے،یہ پلاٹ زرداری حکومت کے آخری دنوں میں الاٹ کئے گئے تھے،تاہم نوازشریف حکومت نے اس بھاری کرپشن کا نوٹس لے کر تحقیقات کی ذمہ داری نیب کو دے دی،یہ تحقیقات اکتوبر2015ء کو نیب کے حوالے کی گئی تھیں اب3سال گزرنے کے باوجود نیب حکام تحقیقات مکمل نہ کرسکا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ افسران نے کوڑیوں کے بھاؤ یہ پلاٹ حاصل کرکے اربوں روپے میں فروخت کردئیے ہیں اور ریٹائرڈ بھی ہوگئے ہیں،اس حوالے سے وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری بابر بھروانہ بھی خاموش ہوگئے ہیں جبکہ ترجمان وزارت وضاحت دینے پر راضی نہیں ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی تین سالوں سے وزارت ہاؤسنگ کے کروڑوں روپے کرپشن سکینڈل کی تحقیقات مکمل نہ کرسکا ہے، مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے ذیلی ادارہ فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی کرپٹ، بیورو کریسی نے اسلام آباد ہاؤسنگ سکیم فیز5 میں اضافی42پلاٹ بنا کر افسران کو الاٹ کردئیے تھے جس سے قومی خزانہ کو37 ملین سے زائد کا ہوا، متعلقہ حکام نے سی ڈی اے سے نہ اجازت لی اور نہ ہی نئے بنائے گئے پلاٹوں کا نقشہ منظور کرایا۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…