منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

ڈیورنڈ لائن پاکستان کی سرحد نہیں ،مشرقی سرحد معلوم ہے نہ ہی مغربی،جے یو آئی کے اہم رہنما نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختون خوا کے امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ ہماری جماعت فاٹا انضمام کی مخالفت اس لئے کر رہی ھے کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان کی سرحد نہیں ہے اور مملکت پاکستان دستخط کر چکی ہے کہ فاٹا پاکستان اور افغانستان

کے درمیان ایک الگ علاقہ ہے،پاکستان کی نہ مشرقی سرحد معلوم ہے اور نہ ہی مغربی سرحد ہے ۔ ایک انٹرویو میں جمعیت کے صوبائی سربراہ نے کہا کہ اگر فاٹا کا انضمام کیا گیاتو ایسا کرنا بیرونی قوتوں کو ناراض کرکے پاکستان کے خلاف انہیں صف آراء کرنے کے مترادف ہوگاانہوں نے کہا کہ ہماری جماعت مختلف حکومتو ں میں اس لئے شامل رہی ہے کیونکہ امریکہ کے تنہا سپر پاور رہنے کہ بعد اب اپوزیشن سیاست کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پبلک ٹرانسپورٹ میں گانے بجانے پر پابندی لگائی تھی ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب تک کمیٹی کی رپورٹ نہیں آجاتی تب تک کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سازش تھی یا غلطی لیکن آجکل اداروں اور حکومتوں میں بیرونی ایجنٹوں کی موجودگی کی وجہ سے زیادہ امکان سازش کا ہے۔ مولانا گل نصیب خان نے کہا  کہ ہماری جماعت فاٹا انضمام کی مخالفت اس لئے کر رہی ھے ڈیورنڈ لائن پاکستان کی سرحد نہیں ہے اور مملکت پاکستان دستخط کر چکی ہے کہ فاٹا پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک الگ علاقہ ہے۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…