عبداللہ بھٹی بطورِ روحانی سکالر ایک معروف نام ہے۔ ان کے ساتھ انٹرویو کا وقت طے ہوا تو میں تصور ہی تصور میں انھیں ایک بڑی عمر کا لمبی داڑھی والا کوئی روایتی پیر قسم کا شخص سمجھا تھا۔ ان کی کتاب ’’اسرار روحانیت‘‘ میں دیکھ چکا تھا لیکن اسے سلیقے طریقے سے پڑھ نہیں سکا تھا، محض طائرانہ نظر سے دیکھا تھا لیکن جب پچھلے دنوں ان سے ملاقات ہوئی تو میں ان کو دیکھ کر چونکے بغیر نہ رہ سکا۔

اب آپ خود ہی سوچئے کہ ایک شخص جو جنوں بھوتوں سے ملاقاتوں سے لے کر کینسر کے مرض کے علاج تک کا دعوے دار ہو، جو خاص حالت میں عندالطلب کسی بھی محیر العقول کارنامے سرزد کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہو، جو کروڑوں دفعہ وظیفہ پڑھنے کا عادی ہو ، جو اپنے آپ کو سلوکِ تصوف کا راہی کہتا ہو ، وہ پینٹ شرٹ میں ملبوس،بغیر داڑھی ، ایک کالج کے لیکچرار کے حلئے میں آپ کے سامنے ہو تو آپ چونکے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں، سو عبداللہ بھٹی سے پہلی ملاقات بھی ایسی ہی رہی۔
اُنھوں نے میرا نام جانے بغیر ہی کچھ گفتگو کر ڈالی اور پھر یہ بھی کہنے لگے کہ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ رہنے دیں، حالانکہ اس میں اچنبھے والی کوئی بات نہ تھی۔ خیر حسب معمول سوالات کا آغاز کیا گیا۔
ان سے پوچھا گیا تھا: ’’آپ نے اپنی کتاب ’’اسرار روحانیت‘‘ پر مختلف کالم نگاروں اور دانشوروں کا تبصرہ شائع کروایا ہے، حالانکہ ان حضرات کااس موضوع سے کوئی تعلق نہیں، پھر آپ نے اپنے میدان میں اپنے سے کم تر لوگوں کا تبصرہ کتاب میں کیوں شامل کیا؟‘‘
عبداللہ بھٹی نے بلاتوقف جواب دیا: ’’دراصل یہ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب ہے۔ ہمارے ہاں کے اہل تصوف اور ماہرِ روحانیات اپنے مشاہدات کو بیان کرنا شجرۂ ممنوع سمجھتے ہیں۔ میں کوئی باقاعدہ مصنف تو ہوں نہیں، اس لیے اس اُلجھن میں تھا کہ معلوم نہیں کہ میرے اس روحانی سفر میں بیان کردہ کیفیات ومشاہدات کو سوسائٹی قبول کرتی ہے یا نہیں۔ کہیں فتوے ہی نہ لگ جائیں، سوسائٹی میں عدم برداشت بہت کم ہے۔ اس لیے میں نے بعض دوستوں کو اپنی کتاب پڑھنے کے لیے دی تاکہ وہ مجھے مشورہ دے سکیں کہ مجھے کتاب میں بیان کردہ باتیں شائع کرنی چاہئیں یا نہیں۔ اب جن لوگوں کو دی ان میں واقف بھی تھے اور اپنے اپنے فیلڈ کے میرے لیے اجنبی ماہر بھی۔ رہی اس میں تعریف وتوصیف کی بات تو یہ اُن کی ذاتی رائے ہے۔ میں نے اُنھیں کتاب کی تعریف کرنے کے لیے ہرگز نہیں کہا۔ ان میں سے تو بعض لوگ ایسے ہیں، جن سے پہلے میں کبھی نہیں ملا تھا، مثلاً بانوقدسیہ، عطاء الحق قاسمی وغیرہ۔ چنانچہ جب اُن لوگوں نے مجھے کہا کہ اس سے لوگوں کو راہنمائی مل سکتی ہے تو میں آمادہ ہو گیا اور کتاب شائع ہو گئی۔
اس وضاحت کے بعد بھی وہاں موجود ایک صاحب اُن کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ بولے: ’’یہ جو آپ نے اِس میں بابا جمال کے بارے میں بیان کیا ہے کہ اُنھوں نے اپنی موت کا وقت پانچ سال پہلے بتا دیا تھا، یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘
عبداللہ بھٹی نے اُن کی حیرت کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا: ’’بھئی اُنھوں نے نہ صرف پانچ سال پہلے بتایا تھا بلکہ جس دن فوت ہونا تھا، اُس دن اپنے گھر والوں کو منع کر دیا تھا کہ بھئی میرا آج کھانا نہ پکائیں، تاکہ خوامخواہ ضائع نہ ہو۔۔۔ رہی بات کہ اُن کو کیسے پتا چلاتو یہ تو حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی غیب کی باتیں جانتا ہے اور کوئی بھی انسان خود سے ایسی کسی بھی بات کا علم نہیں رکھ سکتا، لیکن البتہ وہ بعض دفعہ ایسی کیفیات میں ہوتا ہے تو اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ غیب کی باتوں کا علم ہو جاتا ہے۔ اور وہ منہ پہ لے آتا ہے۔ البتہ یہ صوفی کا کام ہے کہ اُس کے اندر کا فلٹر کتنا اچھا یا ناقص ہے۔ وہ اس فلٹر سے اپنے اُوپر افشاء کی گئی باتوں میں سے کچھ بتاتا ہے اور کچھ نہیں بتاتا۔ اب آج ہی کی بات سُن لیں، میں اپنے ایک شاگرد کی گاڑی پر بیٹھا اور بیٹھتے ہی اُس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: بھئی لگتا ہے تم نے اپنی گاڑی بدلنی ہے۔ وہ یہ سُن کر بڑا پریشان ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کو کیسے پتا چلا، میں تو واقعی گاڑی کے کاغذات بنوا کر آیا ہوں۔ دراصل سالک انسان، جب جذب اور سُکر کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اپنے ہوش میں نہیں ہوتا۔ وہ ایک طرح کی بے ہوش کی حالت میں ہوتا ہے۔ وہ نہیں جانتا ہوتا کہ اُس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کئی دفعہ وہ بے قابو ہو کر اپنے اُوپر وارد ہونے والی وہ انفارمیشن بھی لوگوں کو دے دیتا ہے جو اسے نہیں بتانی چاہیے۔ ‘‘
ہمارا ذہن منصور حلاج کی طرف چلا گیا ، لیکن میں نے اس موضوع کو چھیڑنا مناسب نہ سمجھا اور زیر بحث بات ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا:
’’قرآنِ مجید میں سورۃ لقمان میں تین چیزوں کے بارے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اُس کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو نہیں، ایک یہ کہ قیامت کب آئے گی، دوسرا یہ کہ کوئی کب اور کہاں فوت ہو گا اور تیسرا مستقبل میں ہونے والے واقعات کا حتمی علم ۔ اب اگر کوئی شخص اپنی یا کسی کی موت کے بارے میں بتا رہا ہے تو کیا یہ بظاہر قرآن کے خلاف نہیں ہے؟‘‘
میرے اس سوال کے جواب میں ایک لمبی سی بحث شروع ہو گئی۔ یوں لگا جیسے وہاں بیٹھے لوگ عبداللہ بھٹی سے مناظرہ کرنے آئے ہیں، تب ہم نے بات سمیٹتے ہوئے خود مداخلت کی اور کہا کہ ہم عبداللہ بھٹی صاحب سے بحث نہیں کرنے آئے بلکہ اُن کا انٹرویو کرنے آئے ہیں۔ اور جب اُنھوں نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ علم تو اللہ ہی کو ہوتا ہے، بس وہ انسانوں کو بتا دیتا ہے اور انسان اپنی طاقت سے یہ نہیں معلوم کرتا بلکہ عطا کیے گئے علم کی روشنی میں یہ خبر جانتا ہے تو اُن کی اسی وضاحت کو ہمیں قبول کرنا چاہیے۔
ماحول میں تھوڑی سی تلخی آ گئی تھی، لہٰذا چند لمحوں کے توقف کے بعد میں نے نیا سوال کیا: ’’بھٹی صاحب یہ فرمایئے کہ روحانیت کے ماہر صرف مسلمان ہی ہو سکتے ہیں، غیرمسلم نہیں؟‘‘
اُنھوں نے تُرت جواب دیا: ’’جی بالکل! ماہر روحانیات (Spiritualist) مسلم اور غیرمسلم دونوں ہوتے ہیں حتیٰ کہ وہ بھی جو اللہ کے وجود پر ایمان بھی نہیں رکھتے ۔ اور یہ By Birth یعنی پیدائشی ہوتے ہیں۔ جس طریقے سے پیدائشی رائٹر ، مصور اور دوسرے فن کے لوگ ہوتے ہیں، اسی طریقے سے ماہر روحانیت ہوتے ہیں، کیونکہ روحانیت ایک فن ہے، اس لیے اس فن کا حامل کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے اور جس طرح شاعروں میں کوئی شخص اچھا اور بُرا شاعر ہوتا ہے، اسی طرح روحانیت کے میدان میں بھی کوئی اچھا اور کوئی بُرا ہو سکتا ہے۔ دراصل انسان جسم اور روح کا مرکب ہے۔ بعض کی روح میں لطافت زیادہ ہوتی ہے اور بعض میں کثافت زیادہ ہوتی ہے۔ جس میں لطافت زیادہ ہوگی وہ لطافت خداوندی کو اپنے اندر جذب زیادہ کرنے کی صلاحیت رکھے گا، اس لیے صوفی لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اپنی طبیعت میں کثافت کو کم اور لطافت کو زیادہ کریں۔
اُن کی اس بات سے مجھے یہ سوال پوچھنے کا موقع ملا کہ پھر اسلامی روحانیت اور غیراسلامی روحانیت میں کیا فرق ہے؟
کہنے لگے: سب سے بڑا اور نمایاں فرق یہ ہے کہ غیرمسلم روحانیت کا آغاز ہی ترکِ دُنیا سے کرتے ہیں، وہ اپنے آپ کو سوسائٹی سے بالکل کاٹ لیتے ہیں۔ مہاتما بدھ اس کی مثال ہیں، جبکہ مسلمان صوفی زہد اختیار کرتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے دُنیا میں رہ کر کرتا ہے۔ شادی کرتا، کاروبار کرتا اور تمام دُنیاوی امور انجام دیتے ہوئے تصوف کی راہ کو اختیار کرتا ہے۔ دوسرا بڑا فرق یہ ہے کہ کوئی بھی سچامسلمان ماہر روحانیت شریعت کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ جو شریعت کی خلاف ورزی کرتا ہے، وہ راہ راست سے بھٹکا ہوا ہے۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر اپنی روح کی طرف مائل ہوتا ہے۔ غیرمسلم ہو یا مسلمان، جو کوئی راہِ سلوک کا مسافر ہوتا ہے، وہ جسم کے بجائے روح کی طرف سفر کرتا ہے۔ اُس کی منزل جسم کو راحت پہنچانے کے بجائے روح کو راحت پہنچانا ہوتی ہے۔ غیرمسلم اس کا طریقہ رہبانیت سے پاتا ہے جبکہ مسلمان غوروفکر اور مراقبے سے۔ مراقبہ لازمی ہے۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہے کہ غارِ حرا میں سرکار مدینہﷺ کیا کرتے تھے؟ موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر کیا کرنے گئے تھے؟ عیسیٰ علیہ السلام صحرا میں تنہا سفر کیوں کرتے تھے؟ یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کی ذات پر غورو فکر کرنے کے لیے تھا۔ جب یہ برگزیدہ لوگ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیتے تھے تو اُس کے عشق میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ مسلمان ہو گا وہ’’اللہ اللہ‘‘ کرے گا، ہندو ہو گا تو’’اوم اوم‘‘ کرے گا، اصل چیز ذہن کو خالی کرنا ہے۔ اپنی روح کو باہر نکالنا ہے۔ جب دل خالی ہو جاتا ہے تو آپ کو روح پر سفر کرنا آجاتا ہے۔ پھر آپ کی باطن کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ تمام چیزیں نظر آتی ہیں جو خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ مادّی دُنیا میں جب آپ خوردبین لگا لیتے ہیں یا دُوربین سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں تو آپ کو وہ چیزیں نظر آتی ہیں جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ اسی طرح روحانی دُنیا میں جب آپ کی تیسری آنکھ بیدار ہوتی ہے تو آپ کو غیرمادّی وجود نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ جن بھی ہو سکتے ہیں، بھوت بھی اور چڑیلیں بھی۔ وہ روحیں بھی ہو سکتی ہیں اور بدروحیں بھی۔
حضرت سلطان باہوؒ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ غیرمسلموں کی طرف دیکھتے تھے تو اُن کا دل پھیر دیتے تھے۔ اُن کو مسلمان کر دیتے تھے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ اُنھوں نے 90ہزار لوگوں کو مسلمان کیا۔ تو یہ لوگ مادرزاد ولی ہوتے ہیں۔ جو لوگ مسلمان ہوتے ہیں، اُن کی روحانیت اُنھیں اور طرف لے جاتی ہے اور جو لوگ غیرمسلم یا راہِ حق سے ہٹے ہوتے ہیں، اُن کی منزل اُنھیں کسی اور طرف لے جاتی ہے۔
اس موقع پر ایک اور سوال میرے ذہن میں آیا، میں نے پوچھا: ’’اُلجھن یہ ہے کہ قرآن سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کئی انبیاء علیھم السلام ایسے گزرے ہیں کہ جن پر کوئی ایمان نہ لایا یا بہت ہی قلیل تعداد میں لوگ ایمان لائے اور اُن کی قوم عذاب کا شکار ہو گئی، جبکہ آپ نے سلطان باہوؒ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی مثال دی، تو وہ غیرنبی ہو کر بھی لوگوں کے دل بدل دیتے تھے، کیا اللہ کے نبیوں کو لوگوں کو جہنم سے بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، اُنھوں نے کیوں نہ اپنی قوم پر ایسی نظر ڈالی کہ وہ مسلمان ہو جاتے؟ مزید یہ کہ اس سے تو انبیاء پر نعوذ باللہ یہ الزام بھی آسکتا ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کے اپنی قوم کے بعض لوگوں پر نظر ڈالی اور بعض پر نہیں ، کیا یہ ان کے منصب رسالت کے خلاف نہ تھا ؟ ‘‘
عبداللہ بھٹی صاحب بالکل ہی گڑبڑا گئے اور کہنے لگے: میں اس سوال کاجواب دوں گا تو بہت فتنہ کھڑا ہو گا، لوگ میرے پیچھے پڑ جائیں گے اس لیے اس بحث میں نہ ہی پڑیں تو بہتر ہوگا۔ مجھے اُن کی اس وضاحت پر خاموش ہونا پڑا۔ گفتگو کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اور سوال کیا گیا کہ ’’جب روحانیت میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں تو پھر ہم کیسے جانیں کہ اچھا صوفی کون ہے اور بُرا صوفی کون ہے؟‘‘
کہنے لگے: آپ ایسے لوگوں کے پاس جائیں، اگر وہ کوئی غیراسلامی حرکت کر رہے ہوں، مثلاً اگر وہ اپنی خدمات کا معاوضہ لیتے ہوں اور معاوضہ لیتے وقت سائل کی حالت نہیں دیکھتے یقیناًوہ کاروباری لوگ ہیں جن کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اب میری ہی مثال لے لیں، میرے آستانے پر بہت سے لوگ آتے ہیں، میں کسی سے کوئی پیسے نہیں لیتا۔ امیر وغریب کا کوئی فرق نہیں رکھتا۔ شیعہ سُنی مسلم غیرمسلم کا کوئی فرق نہیں رکھتا، سب کی یکساں خدمت کرتا ہوں۔ جو کوئی ایسی بے لوث خدمت کرتا ہے وہ صحیح صوفی ہے۔
ایک دفعہ میرے پاس ہالینڈ سے ایک شخص آیا، کہنے لگا کہ میں نے آپ کے بارے میں بہت سُنا ہے کہ آپ ماہرِ روحانیات ہیں، میں کیسے مانوں کہ آپ کے اندر یہ چیز پائی جاتی ہے۔ نہ جانے مجھ پر کیا کیفیت طاری ہوئی کہ میری نظروں کے سامنے ایک لڑکی کی شکل آئی، اُس کا نام نادیہ تھا اور اُس کی ران پر بچھو کا ٹیٹو بنا ہوا تھا، میں نے کہا کہ تمھاری ایک گرل فرینڈ ہے جس کی تھائی پر بچھو کا ٹیٹو بنا ہوا ہے۔ وہ سخت خوفزدہ ہوا اور کہنے لگا کہ You are a Real Saint.
ایک اور واقعہ سُنیں، جرمنی سے ایک بندہ آیا، اُس نے بھی مجھے چیلنج کیا۔ مجھ پر کیفیت طاری ہوئی، میں نے کہا: آپ کی بیوی کا ساتواں اور نواں مُہرہ خراب ہے۔ وہ بھی بھونچکا ہو کر رہ گیا۔ تسلیم کیا کہ مجھ میں روحانیت ہے ۔ مشہور صحافی عطاء الحق قاسمی میرے پاس آئے، کہنے لگے کہ یہ روحانیت کیسے طاری ہوتی ہے، کچھ کر کے دکھاؤ۔ میں نے کہا: آگ لائیں میں منہ میں ڈال لیتا ہوں۔ کہنے لگے: میں کہاں سے آگ لاؤں؟ میں نے کہا: یہ چھرا لے جائیں اور آگ کی طرح گرم کرلیں۔ چھرا کوئلے کی طرح گرم کیا گیا اور میں نے اُسے پکڑ کر منہ میں ڈال لیا۔ باقاعدہ شُوں کی آواز آئی۔ مجھے کچھ بھی نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ تم نے کیسے کر لیا؟ میں نے کہا کہ میں نے تو محض آپ کی بات کا جواب دیا اور اب یہ چھرا کسی کو بھی کچھ نہیں کہے گا، بیشک آپ بھی منہ میں ڈال لیں۔ چھرا دوبارہ گرم کیا گیا، اُن کے قریب کیا گیا تو کہنے لگے: اس سے تو باقاعدہ حرارت نکل رہی ہے، میں نہیں کر سکوں گا۔میں نے دوبارہ چھرا منہ میں ڈال لیا۔ اسی طرح میرے آستانے پر ہزاروں لوگ آتے ہیں، اُن میں سے کئی مجھ سے ٹھیک ہو جاتے ہیں اور کئی نہیں ہوتے۔ مری میں ایک اندھا بچہ تھا، وہ دیکھنے لگ گیا۔ ایک بہرہ بچہ ٹھیک ہو گیا۔ میرے یہ سارے کریکٹر زندہ ہیں۔ آپ ان میں سے کسی سے بھی بات کر سکتے ہیں۔
میں نے حیران ہوتے ہوئے کہاکہ آپ تمام بیماریوں کا علاج کر لیتے ہیں، ہر کسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح شفا دے دیتے ہیں؟ بولے: ہرگز نہیں۔ یہ تو وہ مثالیں دی ہیں جن میں میں کامیاب ہوا ہوں، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں ستر فیصد میں ناکام ہوا ہوں اور تیس فیصد کامیاب ہوا ہوں۔ میرا اپنا بھائی کینسر کا مریض تھا، جسے میں ٹھیک نہیں کرسکا۔
میں نے اگلا سوال یہ پوچھا کہ آپ صرف بیماریوں کا علاج کرتے ہیں یا کوئی اور خدمت بھی سرانجام دیتے ہیں؟
اُنھوں نے بتایا: میں نے آئی ایس آئی کے ایک جنرل کی مدد کی تھی۔ ایک ریٹائرڈ جج اعجاز چوہدری میرے جاننے والے ہیں۔ اُنھوں نے مجھے خبردار کیا کہ اس طرح کے کاموں میں تمھاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ میں خود بھی محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اپنے آپ کو اوپن کر کے غلط کیا ہے۔ جرائم پیشہ اور غلط قسم کے لوگ میرے دُشمن بھی ہو سکتے ہیں، لیکن میں ایسا کرنے پر مجبور بھی ہوں کیونکہ مجھے یہ حکم ہے کہ میں یہ چیزیں بیان کروں۔
’’ آپ کو ایسا حکم کون دیتا ہے؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’دراصل االلہ تعالیٰ کی باطنی دنیا کا نظام ’’رجال الغیب‘‘ چلاتے ہیں۔ اُن کو تکوینی لوگ بھی کہتے ہیں۔ ان کے مختلف مرتبے ہوتے ہیں، کوئی قطب ہوتا ہے اور کوئی ابدال۔ ہم لوگ اُن کے تابع ہوتے ہیں۔ مجھے انھی کی طرف سے حکم ہے کہ میں یہ سارے انکشافات کروں جو میں نے اپنی کتاب میں کیے ہیں تاکہ لوگ جان لیں کہ مُرشد کے بغیر بھی منزل مل سکتی ہے۔ میرا کوئی مُرشد نہیں تھا، اس کے باوجود میں نے منزل پائی۔دراصل مجھے معلوم ہوا تھا کہ میرے تایا جان نے ’’اللہ الصمد‘‘ کا سوا کروڑ مرتبہ وِرد کیا تھا تو اُنھوں نے محسوس کیا کہ اُن کے اندر آسمان سے کوئی روحانی چیز آکر مل گئی۔ اس سے میرے اندر جذبہ پیدا ہوا کہ میں یہ کام کیوں نہیں کر سکتا؟ چنانچہ میں نے بھی کئی کروڑ دفعہ وِرد کیے اور ٹائم اور سپیس سے ماورا ہو کر روح کی سیر کی۔‘‘



















































