جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کوئٹہ چرچ میں خود کش حملے میں کتنے افراد جاں بحق کتنے زخمی ہوئے ؟مسیحی برادری کے رہنماؤں کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس،اہم اعلان کردیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کی مسیحی برادری کے رہنماوں نے کہا ہے کہ آپریشن ردالفساد کی کامیابیوں سے دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر آسان ہدف کو نشانہ بنارہے ہیں ملک میں انتشار ،خوف و ہرا س اورسسٹم کو مفلوج کرنے کی منظم سازش کی جارہی ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے مسیحی برادری پاکستان کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گی ،چرچ میں خود کش حملے میں 9افراد جاں بحق جبکہ 50سے زائد زخمی ہوئے ہیں

جاں بحق ہونے والے افراد کی آخری رسومات آج (پیر) کوادا کی جائیں گی۔ یہ بات مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی انیتاعرفان ،پادری صائمن بشیر،ناصر مسیح ،شہزاد کندن ،بشپ امانت ،روز خان ایمووینل فرانسس اوردیگر نے اتوار کی رات کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو ساڑھے دس بجے چرچ کے باہر پولیس موبائل اور ایف سی کے اہلکار موجود تھے 12بجے کے قریب چرچ پر چار دہشت گردوں نے حملہ کیا اور گیٹ پر موجود گارڈ جارج نے دہشت گردوں کے ساتھ مزاحمت کی جس پر اسے فائرنگ کرکے جاں بحق کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ چرچ میں400سے 500لوگ موجود تھے لیکن سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مسیحی برادری کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا ہم صوبائی حکومت ،سول ہسپتال انتظامیہ اور شہری انتظامیہ کے بھی شکر گزار ہیں جنہو ں نے مسیحی برادری کا دکھ کی گھڑی میں بھر پور ساتھ دیا ہم ملک بھر میں مسیحی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شرانگیزی سے گریز کرتے ہوئے پرامن رہیں ۔انہوں نے کہا کہ چرچ کی سیکورٹی سے مطمئن تھے پولیس کے 4اہلکار اندر ڈیوٹی پر موجود تھے جنہوں نے دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کیا ہمیں کسی قسم کی پیشگی حملے کی اطلاع نہیں تھی نہ ہی ایسی کوئی دھمکی موصول ہوئی تھی پورے بلوچستان میں مسیحی برادری کو مذہبی آزادی حاصل ہے

اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کمزور ہوکر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ لوگ خوفزدہ ہوں ہمیں آپس میں لڑایا جائے اور ملک کے سسٹم کو مفلوج کیا جائے مسیحی برادری کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے لیکن ہم واضح کرناچاہتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کو ہرگز اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کیلئے تیار ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی انیتا عرفان نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کو اطلاع ملنے کے بعد وہ مسلسل رابطے میں رہے جبکہ سینیٹر آغا شاہزیب درانی ،آئی جی پولیس ،ڈی آئی جی پولیس ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور سول ہسپتا ل کی انتظامیہ نے ہمارے بھر پور تعاون کیا اور رابطے میں ہیں جاں بحق ہونے والے افراد کی اجتماعی آخری رسومات آج (پیر) کو دوپہر ایک بجے کوئٹہ میں ادا کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…