منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

پاکستانخطے کے دیگر ممالک سے پیچھے رہ گیا، ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ کتنے ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ؟ورلڈبینک کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی اداروں نے پاکستان میں ٹیکس چوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ معاشی اور سماجی کمیشن نے پاکستان میں سالانہ 540 ارب روپے کی چوری کی نشاندہی کی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ معاشی و سماجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں

کہاہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری سے معیشت کو سالانہ 1.8 فیصد کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کا ٹیکسوں کا نظام مساوی نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق با اثر طبقات ٹیکسوں کے دائرہ کار سے باہر ہیں اور پاکستان کو اپنی آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہوگا۔حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے آئی ایم ایف کے مشن نے بھی ایف بی آر کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 12 فیصد ہے جب کہ ایف بی آر 22 فیصد تک ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایف بی آر میں کرپشن کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ کئی سو ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بھی پاکستان میں ٹیکس چوری کی نشاندہی کی گئی ہے. عالمی بینک کے مطابق ٹیکس چوری کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 3200 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جس پر قابو پاکر پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…