جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانخطے کے دیگر ممالک سے پیچھے رہ گیا، ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ کتنے ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ؟ورلڈبینک کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی اداروں نے پاکستان میں ٹیکس چوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ معاشی اور سماجی کمیشن نے پاکستان میں سالانہ 540 ارب روپے کی چوری کی نشاندہی کی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ معاشی و سماجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں

کہاہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری سے معیشت کو سالانہ 1.8 فیصد کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کا ٹیکسوں کا نظام مساوی نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق با اثر طبقات ٹیکسوں کے دائرہ کار سے باہر ہیں اور پاکستان کو اپنی آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہوگا۔حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے آئی ایم ایف کے مشن نے بھی ایف بی آر کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 12 فیصد ہے جب کہ ایف بی آر 22 فیصد تک ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایف بی آر میں کرپشن کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ کئی سو ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بھی پاکستان میں ٹیکس چوری کی نشاندہی کی گئی ہے. عالمی بینک کے مطابق ٹیکس چوری کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 3200 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جس پر قابو پاکر پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…