منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

پاکستان ریلوے کو مکمل طورپر تبدیل کرنے کا اعلان کردیاگیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہاہے کہ تین سال بعد پاکستان ریلوے میں کوئی بوگی پرانی نہیں ملے گی،10سال بعد ریلوے ملک کا بہترین ادارہ شمار ہوگا،کراچی سرکلر ریلوے کیلئے ہم وزیرا علی سندھ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، سرکلر ریلوے کا معاملہ ٹھیک ٹریک پر آگیا ہے، اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ ہمارا وقت ضائع نہ کریں بلکہ ملک و قوم کی بہتری کیلئے حکومت کا ساتھ دیں۔ٹانگیں کھینچنے سے کام نہیں بنے گا عوام جسے اقتدار میں لائیں وہ ہی منتخب لیڈر ہوتا ہے۔

کراچی پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو ملنی چاہئے تھی۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔ آنے والا وقت بہتر کراچی کا ہے۔ کراچی پاکستان کا چہرہ ہے۔ سیاستدانوں اور اداروں کو کراچی بہتر کرنا چاہئے۔ لاہور سے کراچی کا موازنہ کرتا ہوں تو خوش نہیں ہوتا۔ ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو سٹی اسٹیشن پر ڈی ایس آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ریلوے میں 70 سال کی خرابیاں آہستہ آہستہ بہتر ہورہی ہے۔ 70 سال سے ریلوے پر کوئی پیسہ نہیں لگایا گیا۔ پاکستان ریلوے خسارے سے باہر نہیں نکلی۔ ہم نے آمدنی بڑھا کر ریلوے کو اپ گریڈ کیا ہے۔ 1985 سے 12 فریٹ ٹرینیں چل رہی ہیں۔ آئندہ ماہ مزید 3 فریٹ ٹرین کا اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی بحالی کا کریڈٹ ایماندار افسران اور محنتی ملازمین کو جاتا ہے۔ آئندہ تین سال کے بعد ٹرین کی کوئی بوگی خستہ حال نہیں ہوگی۔ انہوں نے ایم ایل ون منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء کی تیسری سہ ماہی میں ایم ایل ون کا کام شروع ہوجائے گا۔ ایم ایل ون سی پیک کا اہم ترین منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کے لئے قرض وہی لیں گے جو اتار سکیں گے۔ کمرشل لون ایم ایل ون کے لئے نہیں لیں گے۔ ایم ایل ون کی لاگت اور قرضہ ایسا ہو کہ نقصان نہ ہو۔ کراچی سرکلر ریلوے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ سرکلر ریلوے اب ٹریک پر آگیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ کو سرکلر ریلوے میں دلچسپی نہیں تھی۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات ہوئی ہے۔ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان سرکلر ریلوے پر کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ سندھ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ عجلت میں کام نہ لیں۔ سیاسی عدم استحکام کے باعث یکسوئی سے کام نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ مرکز یا صوبے کی حکومتوں کو حدود کراس نہیں کرنا چاہئیں۔ ایک دوسرے کو کام سے روکنے اور ہلہ بولنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ حکومتیں کے وقت ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔ ریلوے پولیس کی تنخواہیں صوبائی پولیس کے برابر ہونی چاہئیں۔ آئندہ ماہ فریٹ ٹرین میں تین نئی ٹرینوں کا اضافہ ہوجائے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…