بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

دنیا سموگ سے پریشان اور پاکستانی طلبا حل نکال لائے عالمی ماہرین ہکا بکا رہ گئے، جان کر آپ بھی فخر محسوس کرینگے

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (این این آئی) سموگ پر قابو پانے کیلئے گو رنمنٹ کا لج یو نیورسٹی لاہور کے بی اے (آنرز) بائیوٹیکنالوجی کے طلباء نے ماحول دوست حل پیش کر دیا ،سورج مکھی کا پھول سموگ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔سموگ کے شکار علاقوں میں سورج مکھی کے پھولوں کی کاشت سے آلودگی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔جی سی یونیورسٹی کے شعبہ بائیوٹیکنالوجی کے طلباء نے

اپنی یہ تجویز یونیورسٹی میں منعقدہ سموگ کے خلاف آگاہی واک کے موقع پر پیش کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سائنسی طور پر یہ بات ان کی تحقیقی میں آئی ہے کہ سورج مکھی کا پھول قدرتی طور پر سموگ میں شامل خطرناک ذرات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ے۔آگاہی واک کی قیادت انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی کے چیئرمین پروفیسرڈاکٹر حامد مختار نے کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سموگ اس وقت شہر کو درپیش مسائل میں سب سے اہم ہے،جس کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔سموگ کے ذرات انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں اور جسم میں بہت آرام سے داخل ہو جاتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے بھی طلباء کی تجویز کو سراہا اور اس پر مزید کام کرنے اور تحقیقی مقالہ جات شائع کرنے کی تجویز دی۔وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ جاپان میں نیو کلیئر تابکاری کے خاتمے کے لیئے بھی بڑی سطح پر سورج مکھی کے پھولوں کو کاشت کیا گیا تھا،جو تابکاری اور زہریلے مادے کو جذب کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ کو کنٹرول کرنے کے لیئے دنیا بھر میں تحقیق ہو رہی ہے اور سموگ ٹاور سمیت مختلف حل تلاش کیئے جا رہے ہیں ،لیکن یہ حل انتہائی مہنگے ہیں اور اس سے دوسرے کئی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔سورج مکھی کی کاشت کا طریقہ کافی فائدہ مند ہے اور اس سے

1ملک کو معاشی فائدہ بھی ہوگا۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ آلودگی کو کنٹرول کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میںسائنسدانوں اور عام انسانوں کی بھی اہم کرادر ہے۔انہوں نے تلقین کی کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ پودے اور پھول لگانے چاہیئے تاکہ ہم آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوط کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…