جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

پی آئی اے پرپابندی لگنے کا خطرہ، جہازسے غیرملکی ایئرپورٹ پر11کلوہیروئن کی برآمدگی ،گرفتار13افراد کون ہیں؟افسوسناک انکشافات

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آبا د(این این آئی) پی آئی اے کی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلئے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں بروز جمعرات کمیٹی کے کنونیئر سینیٹر سید مظفرحسین شاہ کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کو ہیتھرو ایئر پورٹ پر پی آئی اے کی پرواز سے ہیروئن کی برآمدگی کے واقعے پرشہری ہوا بازی کے حکام اور انسداد منشیات کے محکمے کے سربراہان نے بریفنگ دی ۔

اے این ایف کے حکام نے بتایا کہ مجموعی طور پر 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پی آئی اے کی پروازوں پر دیگر ممالک پابندی لگا سکتے ہیں ۔ اور اس واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ اے این ایف کے حکام نے بتایا کہ گرفتار افراد میں سے 13 پی آئی اے کے ملازم ہیں ۔کمیٹی نے کہا کہ 11 کلو ہیروئن کی برآمدگی معمولی بات نہیں ۔تاہم 6 مہینے سے کوئی مناسب کارروائی نہیں کی جارہی ، جو افسران ملوث ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔ کمیٹی نے وزیراعظم کے مشیر ہوا بازی سردار مہتاب عباسی سے تین ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی اور اے این ایف سے بھی اس ضمن میں رپورٹ طلب کی ۔کمیٹی کو پی آئی اے کے جہاز میں دوران پرواز کاک پٹ میں خاتون کو بیٹھانے کے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ،پی آئی اے حکام نے بتایا کہ دوران پرواز کاک پٹ میں چینی خاتون کو بیٹھانے پر جہاز کے کپتان کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور پائلٹ نے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے ۔ مشیر ہوا بازی نے بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ میں سینکڑوں مقدمات زیر التوا ء ہیں ۔کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ 8 ماہ سے حکم امتناعی ختم نہیں ہوا جو کہ

پی آئی اے کونسل کی ناکامی ہے ۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ محکمانہ انکوائری میں دونوں پائلٹ قصور وار نکلے تو کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔پریمیر سروس کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے چیئرمین پی آئی اے عرفان الہٰی نے کہا کہ پی آئی اے پریمیر سروس کی منظوری بورڈ نے دی ہے اور سروس اسلام آباد سے لندن کیلئے چلائی گئی اور اس سروس کیلئے ویٹ لیز پر ایک جہاز لیا گیا تھا ۔ پریمیر سروس کو 6 ماہ میں دو ارب 88 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا اور سروس کو بند کر کے ویٹ لیز پر لیا گیا

جہاز واپس کر دیا گیا ہے ۔ اراکین کمیٹی نے اس امر پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ بغیر کسی بزنس پلان کے یہ سروس کس طرح چلائی گئی ۔سینیٹر شیری رحمان نے تجویز دی کہ اس ضمن میں فیصلہ کرنے والے بورڈ کو بھی طلب کیا جائے۔آج کے اجلاس میں سینیٹرز شیری رحمان ، فرحت اللہ بابر ، سلیم مانڈوی والا، عثمان کاکٹر ، مشاہد اللہ خان ، جہانزیب جمال دینی ، تاج محمد آفریدی ، الیاس بلور ، کامل علی آغااور دیگر نے شرکت کی ۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…