ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان نیازی کے نام کھلا خط

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

خان صاحب آپ کی معلومات کا زیادہ تر انحصار کیونکہ بلیک بیری پر ہے اور آپ اس ہی پر میسج کرنا اور پڑھنا پسند کرت ہیں مگر ہمارے جیسے ناچیز کا نا تو آپ میسج پڑھیں گے اور نا ہی کریں گے تو میں اسی فورم کا سہارا لیکر جس پر آپ نے شہباز شریف کے او آئی سی اجلاس میں شرکت پر سوال اٹھایا ہے اسی فورم پر آپ کو جواب دینا پسند کروں گا۔جناب پہلے تو آپ کی معلومات کی تصیح کے لئے عرض ہے کہ شہباز شریف صاحب کو ترک حکومت

نے او آئی سی اجلاس میں مدعو کیا تھا۔ اور یہ اجلاس او آئی سی کے اجلاسوں سے ہٹ کر بیت المقدس کے معاملے میں Extraordinary اجلاس تھا ۔ اس اجلاس کا مقصد امریکہ، اسرائیل سمیت اسلام دشمن ممالک کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہم بیت المقدس کی حفاظت کے لئے ایک ہو کر آ رہے ہیں۔ کیونکہ ویسے ہی او آئی سی کا اجلاس آپ کے مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا تو آپ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہاں کیا ہوا بس آپ نے ایک تصویر دیکھ لی جس میں ترک صدر وزیر اعلیٰ سے مل رہے ہیں اور شاہد خاقان عباسی پیچھ کھڑے ہیں ۔ جناب پہلی بات تو یہ کہ وہ تصویر وزیر اعلیٰ کی فیس بک پر نشر کی گئی ہے تو اس میں وزیر اعلیٰ کی ملاقات ہی دکھائی جائے گی نا کہ وزیراعظم کی ۔ آپ کی معلومات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے عرض ہے کہ او آئی سی انتظامیہ نے اس اجلاس میں مسلم ممالک کے سربراہان کے علاوہ شہباز شریف کو خاص اس لئے مدعو کیا گیا کہ امریکہ کی طرف سے اس احمقانہ عمل پر پاکستان سے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا ردعمل آیا جبکہ آپ سمیت تمام وزراءاعلیٰ آرام فرما رہے تھے ۔جناب مئی میں ہونے والے او بی او آر (OBOR) سمٹ میں پاکستان کے تمام وزراءاعلیٰ شریک ہوئے مصدقہ خبروں کے مطابق سمٹ میں شرکت کے علاوہ وزیر

اعلیٰ شہباز شریف نے چین میں سی پیک کی درجن میٹنگز میں شرکت کی اور درجنوں معائدے کئے مگر باقی وزراءاعلیٰ ان میٹنگز سے پرہیز کرتے رہے اور بالخصوص آپ کے خٹک صاحب او بی او آر سمٹ میں بھی پورا وقت موجود نا تھے اور کسی قریبی مارکیٹ میں خریداری کے لئے تشریف لے گئے ۔ یہیں سے دنیا کو پیغام جاتا ہے کہ کون ملک کے لیے یا اپنے لوگوں کے لئے دن رات ایک کر رہا ہے ۔۔جناب آپ دیکھیں دنیا کو کیا پیغام جاتا ہے کہ کون لیڈر ہے اور کون گیڈر ہے کون مشکل میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہا اور کون پہاڑوں پر چڑھ گیا۔جناب جاتے جاتے آپ کو ایک مفید مشورہ دیئے جاتا ہوں کہ آپ ان فضول کاموں سے پرہیز کریں اور اپنے صوبے میں کام کی طرف توجہ دیں ۔آپ کے پاس ابھی بھی خدمت کے لئے 6 ماہ ہیں اور ان 6 ماہ کو غنیمت جانیں اور ”شہباز سپیڈ” کے رول ماڈل کو اپنائیں اور کچھ کر کے دکھائیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…