اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کا حتمی اعلان کردیا، پاکستان کا شدیدردعمل، کھری کھری سنادیں

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ،وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن

بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے،امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کے اعلان کے دوران کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لیے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔دریں اثناء حکومت پاکستان نے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کے منافی ہے ٗ امریکی اقدام سے علاقائی امن و استحکام متاثر ہونے کے علاوہ مشرق وسطی میں پائیدار امن کیلئے کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں جائینگی۔بدھ کو وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے القدس شریف کے قانونی اور تاریخیٰ حیثیت کے علاوہ چارٹر کو خطر ہ ہو۔پاکستان نے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف دہائیوں سے قائم عالمی اتفاق رائے کو نقصان پہنچے گا بلکہ علاقائی امن و استحکام کے متاثر ہونے کے علاوہ مشرق وسطی میں پائیدار امن کیلئے کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں جائینگی۔پاکستانی حکومت اور عوام امریکی سفارتخانہ القدس شریف منتقل کرنے سے متعلق مجوزہ منصوبے کی غیر متزلزل مخالفت کرتے ہیں۔پاکستان اس سلسلے میں حال ہی میں او آئی سی کی جانب سے حتمی اعلامئے کی بھر پور توثیق کرتا ہے۔پاکستان نے فلسطینی عوام کیساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے 1967سے قبل کے سرحدوں کی بحالی اور دارلحکومت القدس شریف کیساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء پاکستان نے امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے مجوزہ فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدام سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی خبروں تشویش ہے اور پاکستان امریکا کے کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا القدس کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے سے اجتناب کرے، کیونکہ ایسے امریکی اقدام سے نہ صرف علاقائی امن و سلامتی کی کوششیں متاثر ہوں گی بلکہ مشرق وسطٰی میں پائیدار امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ایسا قدم اس معاملے پر عالمی اتفاق رائے سے ہٹ کر ہو گا، امریکی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گا۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی سفارتخانے کے مقبوضہ المقدس منتقلی کے حوالے سے او آئی سی کے حتمی اعلامیے کی مکمل توثیق کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…