اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پیر حمید الدین سیالوی تو رہے ایک طرف، پچیس گدی نشینوں کا ہنگامی اجلاس، 65استعفے تیار، ملک ایک بار پھر جام کرنے کا اعلان

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ختم نبوت معاملہ کا مجرم سامنے نہ آیا تو ملک جام کر دینگے، کشمیر سے کراچی تک پہیہ جام ہو گا، پیر حمید الدین سیالوی نے صرف رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ابھی ہم میں سے کسی اور سجادہ نشین نے باقاعدہ طور پر استعفے نہیں مانگے اگر ہم سب نے استعفے مانگے تو 65سے زائد استعفے تیار ہیں، صدر علما و مشائخ اتحاد پاکستان اور

سجادہ نشین دربار عالیہ سلیمانیہ تونسہ خواجہ عطا اللہ تونسوی کا ہنگامی اجلاس سے خطاب۔ پاکستان کے موقر اخبار روزنامہ 92کی رپورٹ کے مطابق علما و مشائخ اتحاد پاکستان کا دربار عالیہ سلیمانیہ تونسہ میں سجادہ نشین دربار عالیہ سلیمانیہ تونسہ خواجہ عطا اللہ تونسوی کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملک بھر سے درجنوں سجادہ نشینوںنے شرکت کی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین دربار عالیہ سلیمانیہ تونسہ خواجہ عطا اللہ تونسوی کا کہنا تھا کہ ابھی پیر حمید الدین سیالوی نے صرف رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ابھی ہم میں سے کسی اور سجادہ نشین نے باقاعدہ استعفے نہیں مانگے،اگر ہم سب نے استعفے مانگے تو 65سے زائد استعفے تیار ہیں۔ ختم نبوت کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے حکومت کو وقت دیتے ہیں۔ حکومت کو درگاہوں اور گدی نشینوں کی سکیورٹی سے کوئی مطلب ہے نہ ہی درگاہوں کے کروڑوں عقیدت مند حکومت کو نظر آرہے ہیں۔ حکومت حساس معاملے کی اہمیت کا ادارک نہیں کر پا رہی، اگر پاکستان کے گدی نشینوں نے کال دی تو آزادکشمیر سے کراچی تک پہیہ جام ہو گا۔ کم عقل مشیروں کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے جس کی ذمہ دار حکومت خود ہو گئی۔ پیر حمید الدین سیالوی نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہ دوبارہ کلمہ پڑھ کر اللہ سے اپنی گناہوں

کی معافی مانگیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے واضح کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ کو مستعفی ہونا پڑے گا۔ اس موقع پر گدی نشین گڑھی شریف پیر محمد اکرم شاہ، گدی نشین سیال شریف پیر حمید الدین سیالوی، گدی نشین چورا شریف سید سعادت شاہ، گدی نشین مہرا شریف فاروق احمد، گدی نشین بسال شریف پیر قیصر، گدی نشین پیر کرماں والا ، پیر شوکت، سید لیاقت علی، پیر صابر شاہ، پیر فیاض شاہ،

سید مرید کاظم سمیت پچیس درباروں کے گدی نشینوں نے خواجہ عطا اللہ تونسوی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…