جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

میانمار کا مستقبل امن ہو نا چاہیے ،ہرنسلی گروہ اور قانون کی بالادستی کا احترام کیا جائے،پوپ فرانسس

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

یانگون(سی پی پی ) مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے میانمار میں تمام نسلی گروہوں کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار کا مستقبل امن ہونا چاہیے، وہ امن جس میں معاشرے کے ہر رکن کے وقار اور حقوق کا احترام ہو، ہر نسلی گروہ اور اس کی شناخت کا احترام ہو، قانون کی بالادستی کا احترام ہو اور ایک

ایسی جمہوری حکومت ہو، جس میں ہر فرد اور ہر گروپ کا احترام ہو اور اس میں سب کو جائز حصہ دیا جائے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 80 سالہ پوپ فرانسس میانمار کے چار روزہ دورے پر ہیں، جہاں ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا میانمارخانہ جنگی اور تشدد کی وجہ سے تقسیم کا شکار ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس موقع پر پوپ نے روہنگیا مسلمانوں کے تذکرے سے اجتناب کیا۔تاہم پوپ فرانسس نے کہا کہ میانمار کا مستقبل امن ہونا چاہیے، وہ امن جس میں معاشرے کے ہر رکن کے وقار اور حقوق کا احترام ہو، ہر نسلی گروہ اور اس کی شناخت کا احترام ہو، قانون کی بالادستی کا احترام ہو اور ایک ایسی جمہوری حکومت ہو، جس میں ہر فرد اور ہر گروپ کا احترام ہو اور اس میں سب کو جائز حصہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میانمار کا سب سے بڑا خزانہ اس کے لوگ ہیں، انھیں بہت سے مصائب اٹھانے پڑے اور طویل سول تنازع اور دشمنیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تفرقے کی وجہ سے وہ مصیبتیں اٹھاتے رہیں گے۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کے اداروں نے زور دیا تھا کہ پوپ فرانسس کو دورہ میانمار کے دوران روہنگیا اقلیت کا حوالہ ضرور دینا چاہیے تاکہ ان کا کیس زیادہ بہتر طریقے سے نمایاں ہو سکے۔تاہم میانمار میں کیتھولک چرچ نے مشورہ دیا تھا کہ اگر پوپ فرانسس اس ملک میں اس طرح کا کوئی براہ راست بیان دیں گے تو مقامی کیتھولک مسیحیوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔میانمار حکومت اور

فوج پر ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام ہے اور اسی صورتحال کے سبب رواں برس اگست سے سیکڑوں روہنگیا مسلمان ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔میانمار کی حکومت نے ان افراد کے لیے روہنگیا کی اصطلاح کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے انھیں بنگالی قرار دیا ہے،

جس کا کہنا ہے کہ یہ افراد غیرقانونی طور پر نقل مکانی کرکے بنگلہ دیش سے آئے تھے اس لیے انھیں ملک کے نسلی گروہوں کی فہرست میں شامل نہ کیا جائے۔دوسری جانب فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پر تشدد واقعات پر میانمار کی نوبیل انعام یافتہ جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…