پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

حکومت نے پھانسی کی سزا معطل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کردی

datetime 21  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے فوجی عدالتوں کی جانب سے پھانسی کی سزا معطل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کردی ہے۔منگل کو 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق درخواستوں پر حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرایا۔جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کی سزا پر عملدرآمد روکنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور پھانسیاں روکنے کا حکم دینے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوگی۔حکومتی جواب میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں ابھی عدالتی دائرہ اختیار کا تعین ہونا باقی ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لینا باقی ہے کہ عدالت آئینی ترمیم کے معاملات کا جائزہ لے بھی سکتی ہے یا نہیں، لہذا اختیارات کے تعین سے قبل پھانسی کی سزا پرعملدرآمد روکنے کا کوئی جواز نہیں۔حکومتی جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ ملکی حالات 21 ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں ہیں اور فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرموں کے پاس اپیل کا پورا حق حاصل ہے۔جواب میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پھانسیاں روکنے سے متعلق 16اپریل کا حکم نامہ واپس لیا جائے۔یاد رہے کہ سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں اور 21 ویں آئینی ترمیم کی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج ہے،

مزید پڑھئے:شیعہ عالم دین نے حوثیوں کے خلاف ’جہاد‘ واجب قرار دے دیا

لہذا فوجی عدالتوں کی آئینی حیثیت کے تعین تک سزائے موت پر عملدرآمد روکا جائے۔جس پر چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی فل کورٹ بینچ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روک دیا تھا۔فل کورٹ بینچ اب کل بروز منگل 21 ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…