جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ زیب قتل کیس، سندھ ہائی کورٹ نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت کالعدم قرار دیدی

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی ) سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور اس کے دیگر ساتھیوں کی سزائے موت کالعدم قرار دے دیتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو سزا سنائی، سزا کے وقت شاہ رخ جتوی کی عمر 18 سال سے کم تھی اور یہ مقدمہ بچوں کے مقدمات میں آتا تھا ، عدالت نے

مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے مقدمہ ازسرِنو سماعت کے لئے سیشن عدالت میں بھیج دیا ۔تفصیلات کے مطابق 5 سال قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ہونے والے شاہ زیب قتل کا کیس نیا موڑ اختیار کرگیا ہے اور قتل کے مرکزی ملزم کی سزائے موت کو عدالت نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور اس کے دیگر ساتھیوں نے اپنی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ کیس کی سماعت میں ملزمان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو سزا سنائی، سزا کے وقت شاہ رخ جتوی کی عمر 18 سال سے کم تھی اور یہ مقدمہ بچوں کے مقدمات میں آتا تھا جب کہ کیس کے تفتیشی افسر نے شاہ رخ جتوئی کا جو پیدائشی سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا اس پر بھی والد کا غلط نام درج تھا، یہ جھگڑا بھی ذاتی نوعیت کا تھا اس لئے اس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں تو بنتا ہی نہیں۔عدالت نے شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور، سجاد

تالپور اور غلام مرتضی کی سزا کالعدم قرار دے دی اور مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے مقدمہ ازسرِنو سماعت کے لئے سیشن عدالت میں بھیج دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…