منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

وٹامن ڈی جلے ہوئے زخموں کو جلدی بھرنے میں مددگار

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ماہرین کے مطابق جھلسے ہوئے افراد کو وٹامن ڈی سپلیمنٹ دینے سے ان کے زخم تیزی سے بھر سکتے ہیں۔ یہ نئی تحقیق برطانوی شہر برمنگھم میں انسٹی ٹیوٹ آف انفلیمیشن اینڈ ایجنگ نے کی اور ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا میں سالانہ 1 لاکھ 80 ہزار

افراد جھلسنے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ان میں کرنٹ لگنے، رگڑ، تابکاری، کیمیکل ، آگ اور دیگر حادثات شامل ہیں جو جلد کو بری طرح جھلسادیتےہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک میں جھلسنے والوں میں بچوں کی تعداد سب سے ذیادہ ہوتی ہے اور بالغان کے مقابلے میں بچوں کے جلد کا کم حصہ بھی جھلس جائے تو وہ موت کے دہانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ کئی مریضوں کے زخم بہت دیر سے بھرتے ہیں جس سے تکلیف مسلسل بڑھتی ہے لیکن زخموں میں جراثیم سے متاثر ہونے اور مزید بگڑنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مریض کے جان کے لالے بھی پڑسکتے ہیں، اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ وٹامن ڈی اینٹی بیکٹیریل خواص کی بنا پر زخم کو تیزی سے بھرسکتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے مختصر مطالعہ کیا جس میں 12 ماہ تک شدید جھلسے ہوئے مریضوں کو وٹامن ڈی کی خوراک دی گئی۔ ان 38 افراد میں 42 فیصد ایسے مریض بھی تھے جو درمیانے درجے کے جلے ہوئے تھے۔ جن مریضوں کو وٹامن ڈی کی سپلیمنٹ دی گئیں ان کے زخم تیزی سے مندمل ہوئے جنہیں دیکھ کر خود ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔ جب کہ جن مریضوں کو وٹامن ڈی کی کم مقدار دی گئی ان کے زخم دیر سے بھرے ۔ اس کے علاوہ جھلسے ہوئے مریضوں میں پیچیدگیاں بھی کم دیکھی گئیں۔ اب سائنسدانوں کا مشورہ ہے کہ جیسے ہی اسپتال میں گہرے زخموں والے مریض لائے جائیں انہیں فوری طور پر وٹامن ڈی کی سپلیمنٹ دی جائیں تاکہ زخم

بھرنے کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ اس پر تحقیق کرنے والی ماہر جینٹ لارڈ کہتی ہیں کہ کہ جلنے کا عمل ازخود جسم میں وٹامن ڈی کی کمی پیدا کرتا ہے، اس طرح یہ زخم ٹھیک کرنے کا ایک آسان اور کم خرچ طریقہ ہے، اس سے زخموں میں جلن بھی کم ہوتی ہے اور مریض پرسکون رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…